مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر میں تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کی اہم اسامیوں پر تقرری کیلئے پی ایس سی کا نظام نافذ کردیا۔
ہزاروں امیدواران غیر یقینی صورتحال سے دوچار وہیں بھرتیوں کے نظام، کوٹہ پالیسی اور میرٹ کے اصولوں پر ایک نئی اور سنجیدہ بحث چھیڑ دی ۔
بالخصوص عدالتِ عالیہ کے ایک اہم فیصلے کے بعد یہ معاملہ محض انتظامی نہیں رہا بلکہ ایک اہم قانونی و پالیسی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی تمام بھرتیوں پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق عدالتِ عالیہ آزاد کشمیر میں اوپن میرٹ سے متعلق اہم مقدمات زیر سماعت تھے جن میں امجد علی خان وغیرہ بنام حکومت، راجہ شفیق اللہ وغیرہ اور کسا بتول وغیرہ شامل تھے۔
ان مقدمات میں بنیادی نکتہ ضلع وائز کوٹہ سسٹم اور بھرتیوں کے طریقہ کار کو چیلنج کرنا تھا۔
مزید پڑھیں:جواد خواجہ قتل کیس، پولیس حکام کی لواحقین کو آپریشن پر بریفنگ
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کوٹہ سسٹم میرٹ کے اصولوں کے منافی ہے اور اس سے اہل امیدواروں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔
عدالتِ عالیہ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد مورخہ 18 اگست کو محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کوٹہ سے متعلق تمام نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دے دیا
واضح کیا کہ سرکاری اسامیوں پر تقرریاں خالصتاً اوپن میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں۔ عدالتی فیصلے کے بعد محکمہ جات میں جاری بھرتی کے عمل پر براہِ راست اثر پڑا اور ضلع وائز مختص اسامیاں ازخود اوپن میرٹ میں تبدیل ہو گئیں۔
اسی تناظر میں پبلک سروس کمیشن کی جانب سے 28 جولائی کو اشتہار نمبر 1/2025 کے تحت مشتہر کی گئی تحصیلدار کی 12 اور نائب تحصیلدار کی 31 اسامیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:این ٹی ایس سٹاپ گیپ ویٹنگ اساتذہ کا بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان
چونکہ یہ آسامیاں ضلع وائز بنیادوں پر مشتہر کی گئی تھیں، اس لیے عدالتی حکم کے بعد ان پر بھرتی کا عمل جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔
پبلک سروس کمیشن نے گزشتہ ماہ 31 مارچ کو جاری پریس ریلیز میں ان اسامیوں کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے پاس فی الوقت یہ آسامیاں موجود نہیں رہیں۔
تاہم بعد ازاں ترجمان کمیشن نے وضاحت کی کہ اگر یہ آسامیاں دوبارہ موصول ہوئیں تو انہیں اوپن میرٹ پر ازسرنو مشتہر کیا جائے گا۔
جبکہ پہلے سے درخواست دینے والے امیدواران کی درخواستیں برقرار تصور ہوں گی اور انہیں دوبارہ اپلائی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کی اسامیوں پر آخری بھرتیاں بالترتیب 2011 اور 2012 میں مکمل ہوئی تھیں۔
جس کے بعد ایک طویل عرصے کے بعد یہ اسامیاں مشتہر کی گئی تھیں۔ تاہم عدالتی فیصلے کے باعث یہ عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
موجودہ صورتحال میں امیدواران میں بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ دوسری جانب عدالتی فیصلے کو میرٹ اور شفافیت کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام ان اسامیوں کو کب اور کس طریقہ کار کے تحت دوبارہ مشتہر کرتے ہیں۔




