اسلام آباد:حکومتِ پاکستان نے آزاد جموں و کشمیرمیں زیرِ تعمیر اسکولوں کی تکمیل کے لیے ایک ارب روپے جاری کردیئے ہیں جس سے 65سکولوں کی تعمیر مکمل ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران وزیرِاعظم کے خصوصی پیکیج برائے آزادکشمیر سے ایک ارب روپے ری-اپروپریشن کے ذریعے منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد میں شہریوں کے لیے فری سوزوکی سروس کا آغاز، حکومت کا بڑا ریلیف پیکیج
یہ رقم ان 65 اسکولوں کی تکمیل پر خرچ ہوگی جن کی تعمیر 80 فیصد سے زائد مکمل ہو چکی ہے۔
دستاویز کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِاعظم کی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا جنہوں نے خاص طور پر زیرِ تعمیر اسکولوں کی عمارتوں کی چھتوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی۔
اس سے قبل نومبر 2025 میں بھی اسی مقصد کے لیے سمری بھجوائی گئی تھی، تاہم اُس وقت وزیرِاعظم آفس نے ہدایت دی تھی کہ آزادکشمیر حکومت اپنے موجودہ بجٹ سے یہ اخراجات پورے کرے۔
بعد ازاں فروری 2026 میں وزیراعظم شہبازشریف نئی ہدایات جاری ہونے پر معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا گیا اور فنڈز کی منظوری دی گئی۔
پلاننگ کمیشن کے مطابق io رقم وزیرِاعظم کے 5 ارب روپے کے خصوصی پیکیج سے منتقل ہوئی ہے,آزادکشمیر حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرکے اسکولوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کی پیش رفت رپورٹ بھی رواں مالی سال کے دوران جمع کرانا ہوگی جبکہ متعلقہ اداروں کو مزید کارروائی کے لیے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف کا پٹرول 12 روپے ، ڈیزل 135 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان
یاد رہے کہ 2005 کے زلزلہ میں تباہ ہونے والے کئی تعلیمی ادارے آج بھی چھتوں سے محروم سے ہیں کچھ اداروں کا کام ادھورا پڑا ہے جبکہ کچھ اداروں کو ابھی تک کام شروع ہی نہیں ہوسکا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ وزیراعظم نے بجٹ 2025-26میں آزادکشمیر کیلئے 5ارب کا خصوصی پیکیج دیا تھا۔




