تہران (کشمیر ڈیجیٹل)اسلام آباد امن مذاکرات میں امریکا کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی سربراہی ممکنہ طور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن :ریٹائرڈ افسران کنٹریکٹ بنیادوں پر دوبارہ تعینات
عالمی خبر رساں ادارے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر مذاکرات کل سے اسلام آباد میں شروع ہونے جا رہے ہیں جس کیلئے نائب امریکی صدر روانہ ہوچکے ہیں۔
ایران وفد کی پاکستان آمد کل متوقع ہے تاہم اس سے قبل ممکنہ چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے دو شرائط رکھ دیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:باوقار میڈیا کلچر کے فروغ کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرینگے، فیصل ممتاز راٹھور
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ فریقین کے درمیان طے پانے والے 2 اقدامات پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد کیے گئے اثاثوں کی بحالی ہیں اور یہ دونوں وعدے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے پورے ہونے چاہیئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب : ن لیگ، پیپلزپارٹی کے کارکنوں کا ذیشان حیدر پر اعتماد کا اعلان
ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ مذاکرات سے قبل لبنان میں فوری جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی لازمی ہے۔
Two of the measures mutually agreed upon between the parties have yet to be implemented: a ceasefire in Lebanon and the release of Iran’s blocked assets prior to the commencement of negotiations.
These two matters must be fulfilled before negotiations begin.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 10, 2026
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق محمد باقر قالیباف کا یہ بیان مذاکرات سے ایک قبل آنا اہم موڑ ہے کیوں کہ وہ ممکنہ طور پر ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔




