پی ٹی آئی آزادکشمیر کا پارلیمانی بورڈ قائم ہونے پر بانی رہنما، سابق سیکرٹری جنرل و امیدواراسمبلی حلقہ کھاوڑہ راجہ منصور خان سے سخت ردعمل دیتے ہوئے پارلیمانی بورڈ کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے جلد پریس کانفرنس میں لائحہ عمل دینے کا اعلان کردیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں راجہ منصور خان کا کہنا تھا کہ مفاداتی گروہ کی جانب سے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے لیے ایک متنازعہ پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابات کی تیاریاں، پی ٹی آئی آزادکشمیر کا پارلیمانی بورڈ قائم، اہم شخصیات شامل
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بورڈ میں نہ تو مرکزی قیادت کی کوئی نمائندگی شامل کی گئی ہے، نہ ہی پارٹی کے نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو جگہ دی گئی ہے، جبکہ یوتھ، آئی ایس ایف اور خواتین کی نمائندگی بھی مکمل طور پر نظر انداز کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزید برآں اس بورڈ میں شامل افراد کی اکثریت کا ماضی پارٹی وفاداری کے حوالے سے سوالیہ نشان ہے۔
سوائے محمد اقبال کےُباقی تمام افراد یا تو متعدد بار سیاسی جماعتیں تبدیل کر چکے ہیں یا ان کا تعلق مسلم کانفرنسی گروپس سے رہا ہے، یا پھر انہوں نے محض وقتی سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے گزشتہ انتخابات سے چندہ قبل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کے نظرئیے اور جدوجہد پر یقین رکھنے والے کارکنان، اس یکطرفہ اور غیر متوازن پارلیمانی بورڈ کو مسترد کرتے ہیں اور پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے اس فیصلے کے خلاف اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔
راجہ منصور کا کہنا تھا کہ ہم نے اس پہلے یکطرفہ جعلی انٹرا پارٹی الیکشن، پارٹی رجسٹریشن میں مجرمانہ غفلت اور انتہائی غلط تنظیم سازی پر اس لیے خاموشی اختیار کیے رکھی کے عمران خان صاحب کی بڑی جدوجہد پر کوئی غلط اثر نہ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے تحفظات اور خدشات تمام مرکزی قیادت تک پہنچائے۔ ہمیں مرکزی قیادت کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کے پارلیمانی بورڈ میں سب کےتحفظات اور خدشات کو ایڈریس کیا جائے گا۔
راجہ منصورنے خبردار کیا کہ پارلیمانی کے فیصلے کے بعد ہمیں خدشہ ہے کہ اس فیصلے سے عمران خان کی سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچے گا اور آئندہ آزادکشمیر کے انتخابات میں پارٹی کو ناقابلِ تلافی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں:الیکشن کی شفافیت کیلئے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی رجسٹریشن ناگزیز ، عبدالقیوم نیازی
انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے متوازن پارلیمانی بورڈ کا خواہاں ہوں جس میں مرکزی قیادت کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں عمران خان کے مخلص اور نظریاتی کارکنوں کی نمائندگی شامل ہوتاکہ پارٹی کے لیے بہترین اور دانشمندانہ فیصلے کیے جا سکیں۔
راجہ منصور نے کہا کہ ہم جلد ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا مکمل لائحہ عمل کارکنان کے سامنے پیش کریں گے اور اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب اس فیصلے کو ٹھیک نہیں کیا جاتا۔
یاد رہے کہ راجہ منصور خان کا شمار پی ٹی آئی آزادکشمیر کے بانی رہنمائوں میں ہوتا ہے اور وہ عمران خان کے انتہائی قریب بھی رہ چکے ہیں اسی وجہ سے پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنایا گیا تھا لیکن اب سائیڈ لائن کردیا گیا




