ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا دنیا جنگ بندی کے اعلان کے بعد لبنان میں ہونے والے قتلِ عام کو دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ امریکا اپنی کی گئی باتوں پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر فی بیرل ٹیکس لے گا،بڑا اعلان کردیا
ایرانی وزیرخارجہ نے وزیراعظم شہبازشریف کا جنگ بندی کے اعلان والا بیان بھی شیئر کردیا اور لکھا کہ ایران اور امریکا جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے، امریکا کو انتخاب کرنا ہوگا کہ وہ جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہےکیونکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں۔
ادھر ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ ایران کے وزیرخارجہ اور فیلڈمارشل عاصم منیر کے درمیان رابطہ ہوا اور ایرانی وزیرخارجہ نےفیلڈمارشل کوجنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں سےآگاہ کیا۔
یاد رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ لبنان جنگ بندی میں شامل نہیں ہےصرف ایران کی حد تک جنگ بندی کی گئی اور ہم مذاکرات کرنے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان کبھی سیزفائر کا حصہ نہیں تھا،ایران معاملہ توڑنا چاہتا ہے تو یہ انکا انتخاب ہوگا، امریکی نائب صدر
ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ اب ایران نے فیصلہ کرنا ہےکہ ایران معاملہ توڑنا چاہتا ہے تو یہ انکا انتخاب ہوگا۔
یہ بھی یاد رہے کہ لبنان پر ہونیوالے بمباری پر ایران نے ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے۔




