لبنان کبھی سیزفائر کا حصہ نہیں تھا،ایران معاملہ توڑنا چاہتا ہے تو یہ انکا انتخاب ہوگا، امریکی نائب صدر

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کی پہلی 10نکاتی تجویز ردی کےڈبے میں پھینک چکے، اب دوسری 10 نکاتی تجویز پرایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ نیو یارک ٹائمز پہلی 10نکاتی تجویز کو پھیلا رہاہے اور کہ رہا ہے کہ امریکا اس پر بات چیت کر رہا ہے جبکہ امریکا اسے ردی کے ڈبے میں پھینک چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: جے ڈی وینس امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرینگے، وائٹ ہائوس

ایران سے کچھ لوگ پروپیگنڈے کے لیے غلط دس نکات پیش کر رہے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرکےبیان پرردعمل میں کہا کہ قالیباف کا ٹویٹ دیکھا ہے، 15 نکاتی پلان ہے، اگر صرف 3 نکات پر اختلاف ہے تو اچھی بات ہے کہ بہت سی باتوں پر اتفاق ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا اور اسلام آباد میں مذاکرات کا فیصلہ کیا تاہم بات چیت میں لوگوں کی نیتوں پر عدم اعتماد کافی ہے، انہوں نے سودے بازی کی تو سنگین نتائج بھگتیں گے۔

جنگ بندی کی خلاف ورزی پربولے سیز فائز ہمیشہ سے مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ کوئی سیز فائز تھوڑی بہت خامی کے بغیر نہیں ہوتا۔

لبنان جنگ بندی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا ایرانی حکومت نے سمجھا کہ لبنان بھی سیز فائر میں شامل ہو گا، ہم نے خود یہ کبھی نہیں کہا، اگر ایران چاہتا ہے کہ معاملہ لبنان کی وجہ سے ٹوٹ جائے تو یہ ان کا انتخاب ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی اخبار ٹیلی گراف نےفیلڈ مارشل عاصم منیر کو عالمی امن کا سفیر قرار دیدیا

انہوں نے کہا ہرمز میں ٹریفک بڑھی ہے، تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، ڈیل یہ ہے کہ سیز فائر ہو اور بات چیت ہو اور ہرمز کھلے، اب ایرانیوں کو اگلا قدم اٹھانا ہو گا، مجھے نہیں معلوم کہ ایرانیوں نے کہا کہ جے ڈی وینس کو مذاکرات میں شامل کریں۔

جے ڈی وینس نے کہا ایرانی آبنائے ہرمز کو کھولنے کا وعدہ کررہےہیں، انہوں نے پیغام دیا ایرانی ہمیں جتنا کچھ دیں گے اتنا ہم انھیں دیں گے، ہم ان پر پابندیاں کم کرنے پر بات کر سکتے ہیں، ہمارے پاس لیوریج ہے کہ ہم انہیں بہت کچھ دے سکتے ہیں۔

Scroll to Top