برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی ایک تفصیلی رپورٹ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو عالمی سطح پر ایک اہم اور بااثر شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے،
جنہیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اور پسندیدہ فوجی رہنما کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے انہیں ایک مضبوط شخصیت، اہم رہنما اور غیر معمولی انسان قرار دیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا عالمی سطح پر نام روشن، بھارتی تجزیہ کار مودی پر برس پڑے
اور انہیں اسٹریٹجک معاملات میں خاص اہمیت حاصل ہے، وائٹ ہاؤس میں بھی انہیں ٹرمپ کے “پسندیدہ فیلڈ مارشل” کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق حالیہ پیش رفت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان ایک نازک اور عارضی جنگ بندی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا،
جس کے بعد ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، پاکستان میں اس پیش رفت کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے اور اسے ملک کے عالمی وقار میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی سفارتی کامیابی، سرینگر سے کشمیری نوجوان کا فیلڈ مارشل کے نام اہم پیغام جاری
رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس مذاکراتی عمل کے مرکزی کردار تھے اور ٹرمپ ان پر خاص اعتماد رکھتے ہیں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور ایران سے متعلق معاملات میں ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیرصحت ،سیکرٹری اور ڈی جی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر
مزید کہا گیا کہ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ مل کر کئی ہفتوں تک پسِ پردہ مذاکرات کیے، جن کے نتیجے میں یہ معاہدہ ممکن ہوا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ فیلڈ مارشل نے چین کو بھی اس عمل کی حمایت پر آمادہ کیا، جس سے ایران کو معاہدہ قبول کرنے پر قائل کرنے میں مدد ملی۔
رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلی بار عالمی توجہ کا مرکز اس وقت بنے جب گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ ہوا۔
اس دوران پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے گرانے کا دعویٰ کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے کامیابی کا اعلان کیا اور جلد ہی انہیں فائیو اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ نے اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان چار روزہ کشیدگی کے خاتمے کا دعویٰ بھی کیا تھا اور اسے ممکنہ ایٹمی تصادم سے بچاؤ قرار دیا تھا،
جس کے بعد فیلڈ مارشل کی جانب سے انہیں امن کے عالمی اعزاز کے لیے نامزد کیا گیا، بعد ازاں فیلڈ مارشل کو واشنگٹن کا دورہ بھی کروایا گیا جہاں انہیں وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا گیا، جو ایک غیر معمولی پیش رفت تھی۔




