پاکستان کا عالمی سطح پر نام روشن، بھارتی تجزیہ کار مودی پر برس پڑے

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی میں پاکستان کی سفارتی کامیابی کے بعد بھارت میں اس پیش رفت پر شدید ردعمل سامنے آیا گیا، جہاں بعض تجزیہ کاروں نے اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ بحران میں اہم ثالثی کردار ادا کیا، جس کے باعث عالمی سطح پر اس کی سفارتی حیثیت مضبوط ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس تناظر میں بھارتی وزیراعظم مودی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:دیوان علی چغتائی ، چوہدری رشیدکو جھٹکا، ن لیگی کارکنوں کا پیرا شوٹر کو قبول کرنے سے انکار

ایک بھارتی تجزیہ کار نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک دہائی قبل اڑی واقعے کے بعد مودی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار نمایاں جبکہ بھارت پس منظر میں نظر آ رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بات چیت کی پیشکش کی، جسے عالمی سطح پر مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیرصحت ،سیکرٹری اور ڈی جی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ ایران کی قیادت کی جانب سے بھی اس پیش رفت کی منظوری دی گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملے روکے گئے تو ایران بھی جوابی کارروائیاں روک دے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کا 9 اور 10اپریل کو مقامی تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

ماہرین کے مطابق خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال جنوبی ایشیا کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ پاکستان کا کردار عالمی سطح پر مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

Scroll to Top