شوکت نواز میر نے میری کوئی مدد نہیں کی، شہیدسدھیر اعوان کے والد کے سنسنی خیز انکشافات

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنوں اور لانگ مارچ میں شہید ہونیوالے سدھیر اعوان کے والد سلیمان اعوان نے کشمیر ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ شوکت نواز میر نے مجھے کہا کہ بچے میرے حوالے کرو میں انہیں باہر بھجوادیتا ہوں۔

سلیمان اعوان نے انکشاف کیا کہ سدھیر اعوان کی شہادت کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگ ہسپتال پہنچ گئے اور ہم پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ لاش ہمارے حوالے کریں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران نے امریکہ کیساتھ مذاکرات کا سلسلہ روک دیا،نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

ڈی سی مظفرآباد نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ لاش کو ان کے لواحقین کے حوالے کی جائے ۔ اور معاملے کومزید طول دینے سے گریز کرو اور لاش پر سیاست نہ کرو۔

سلیمان اعوان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ سدھیر اعوان کا عوامی ایکشن کمیٹی سے کیا تعلق تھا ، وہ مظفرآباد میں برتنوں کی دکان کرتا تھا ،

احتجاج والے دن وہ مظاہرے میں کیسے گیا مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ۔ مجھے رات نو بجے اطلاع ملی کہ سدھیر اعوان گولی لگنے سے مارا گیا ہے ۔۔

سلیمان اعوان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ سدھیر اعوان کا عوامی ایکشن کمیٹی سے کیا تعلق تھا ، وہ مظفرآباد میں برتنوں کی دکان کرتا تھا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کی مریم نواز سے ملاقات، فلاحی منصوبوں کی تعریف

احتجاج والے دن وہ مظاہرے میں کیسے گیا مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ۔ مجھے رات نو بجے اطلاع ملی کہ سدھیر اعوان گولی لگنے سے مارا گیا ہے ۔۔

سلیمان اعوان کاکہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کا میں نے پہلے نام بھی نہیں سنا تھا ۔ وہ دکان پر جارہا تھا کہ راستے میں گولی کا نشانہ بن گیا۔ سدھیر اعوان کے پانچ بچے بچیاں ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مسلح افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے ،ملکی،علاقائی سالمیت کیلئے پرعزم، کورکمانڈر کانفرنس

ایک سوال کے جواب میں حکومت کی جانب سے امداد فراہم کی گئی ہے تو سلمان اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا گیا ہے ۔

حکومت نے بچوں کو ملازمت دی اور خطر رقم ایک کروڑ روپے بھی امداد کی ہے ۔ جو بھی حوصلہ افزائی ہوئی وہ حکومت کی جانب سے ہوئی ہے ۔

Scroll to Top