سپیکر چوہدری لطیف اکبر کا انتخاب چیلنج کرنے کا فیصلہ، مقبول گجر نے بڑا دعویٰ کردیا

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ، سابق رکن اسمبلی چوہدری مقبول گجر نے کہا ہے کہ سپیکر اسمبلی کے عہدہ کیلئے 27ووٹ لازمی ہیں،پی ٹی آئی کی طرف سے میں امیدوار تھااور میں نے جب بائیکاٹ کیا تو میرے ساتھ 27سے زیادہ لوگوں نے بائیکاٹ کیا ، چوہدری لطیف اکبر 19ووٹ لے کر سپیکر بنے جو غیر قانونی ہے۔

کشمیر ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئےچوہدری مقبول گجر نے کہاکہ مجھے اسی وقت رٹ دائرکرنی چاہیے تھی لیکن وہ اس لئے دائر نہ کرسکا کیونکہ میراخود ایک کس ہائیکورٹ میں لگا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپیکر لطیف اکبر نے یوتھ پارلیمانی فورمز قائم کرنے کی تجویز دیدی

انہوں نے کہا کہ میراوہ کیس ڈھائی سال چلا، میں وحد آدمی ہوں جس کے پاس فارم 25 موجود ہے، میں نے تین دن پہلے بھی چیف الیکشن کمشنر سے درخواست کی تھی کہ میں جیتا ہوا ہوں۔

چوہدری مقبول گوجر نے کہا کہ یہ سپیکر نہیں ہیں کیونکہ 19ووٹوں سے کوئی سپیکر کیسے بن سکتا، میرا کیس اب بھی لگا ہوا ہے۔

چوہدری مقبول گوجر نے دعویٰ کیا کہ چوہدری لطیف اکبر گوجروں کا پسندیدہ ہے نہ گوجروںکو یہ وقعت دیتے ہیں ، میں نے اسمبلی میں بات کی تو چوہدری لطیف اکبر نے کہا تھا کہ برادری ازم پر یقین نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کا ریاض گجر کو ہٹا کر تقدیس گیلانی کو ڈپٹی سپیکر لانے کا فیصلہ

یاد رہے کہ چوہدری مقبول گجر مہاجرین کی نشست پر گوجرانوالہ سے 2021کےانتخابات میں ممبر اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور ان پرمسلم لیگ(ن) کے چوہدری اسماعیل گجر نے دھاندلی کاالزام لگا دیا تھا۔

الیکشن ٹربیونل نے چوہدری اسماعیل گجر کی درخواست پر دھاندلی ثابت ہونے پرچوہدری مقبول گجر کو فارغ کردیا تھااور چوہدری اسماعیل گجر کو ممبراسمبلی بحال کردیا تھا۔

Scroll to Top