مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)قائمقام امیر جے یوآئی مولانا امتیاز احمد عباسی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ جمعیت علماء اسلام آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔
قائمقام امیر جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر مولانا امتیاز احمد عباسی نے کہا کہ ریاستی تشخص کے تحفظ کے لیے سنجیدہ قیادت ضروری ہے،آزاد کشمیر میں آنے والے انتخابات ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
اس لئے ضروری ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں ایسی قیادت منتخب ہو جو ریاست کشمیر کے مفادات اور عوامی قربانیوں کی حقیقی نمائندگی کرے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام آزاد کشمیر ایک بڑی مذہبی و سیاسی جماعت ہے اور جماعت آئندہ انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن کا انتخابی فہرستہا کے نظر ثانی عمل میں توسیع کا اعلان
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا یونس شاکر، ضلعی مفتی باغ مولانا مفتی رشید، مولانا اعجاز احمد، مولانا مختار کیانی اور مولانا معروف کے ہمراہ مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا امتیاز احمد عباسی نے کہا کہ وہ پریس کانفرنس کے ذریعے عوام تک اپنے خیالات پہنچانے کا موقع فراہم کرنے پر تمام صحافیوں اور ایوانِ صحافت کے عہدیداران کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کشمیر اس وقت ایک اہم مرحلے سے گزر رہی ہے۔۔ آئندہ انتخابات میں عوام کو باشعور اور ذمہ دارانہ فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ ایسی قیادت سامنے آئے جو ریاست کے مفادات کو مقدم رکھے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مختلف ادوار میں کشمیر کے حوالے سے متعدد فارمولے اور تجاویز سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے اقدامات کیے گئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شوکت نواز میر ہو یا کوئی اور اداروں کیخلاف ہرزا سرائی قبول نہیں،طیب منظور کیانی
اس تناظر میں آزاد کشمیر میں بھی ریاستی شناخت اور تشخص کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ اور باوقار قیادت کی ضرورت ہے جو ریاست کے عوام کے ساتھ مخلص ہو۔
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں مساوی مواقع فراہم کرے اور دھاندلی کے تمام ممکنہ راستوں کو بند کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد اور شفاف انتخابات ہی جمہوری نظام کے استحکام کی ضمانت ہیں۔
مولانا امتیاز احمد عباسی نے انتخابی فہرستوں کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پاکستان میں مسلم اور غیر مسلم ووٹرز کی علیحدہ فہرستیں موجود ہیں، اسی طرز پر آزاد کشمیر میں بھی مسلم اور غیر مسلم ووٹرز کی واضح شناخت کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں تاکہ انتخابی نظام میں شفافیت برقرار رہے۔
ریاست میں صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں تاحال ایسا بڑا سرکاری ہسپتال موجود نہیں جہاں غریب عوام کو جدید طبی سہولیات میسر ہوں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:تیل کی قیمتوں میں اضافہ: پاکستانی عازمین کے لیے حج کرایوں سے متعلق بڑی خبر آگئی
کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لیے بھی ریاست میں مناسب ادارے موجود نہیں، جبکہ دور دراز علاقوں کے عوام بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آنے والی حکومت کو طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت صحت کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ریاست میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
حکومتوں کی جانب سے بلند و بانگ دعوے ضرور کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر ایسے بڑے منصوبے نظر نہیں آتے جو عوامی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا سکیں۔
مولانا امتیاز احمد عباسی نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی خصوصاً پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے اور اس کے اثرات ٹرانسپورٹ سمیت تمام شعبوں پر پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں مختلف تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور اس حوالے سے وکلاء، تاجر برادری اور دیگر طبقات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عوامی مسائل کو موثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں اس وقت مختلف سرکاری ملازمین تنظیمیں اور ہیلتھ ایمپلائیز ایسوسی ایشن اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان ملازمین کے جائز مطالبات کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ انتظامی اور امن و امان کے مسائل پیدا نہ ہوں۔
نکاح رجسٹریشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نکاح ایک مذہبی عبادت ہے اور اس معاملے کو کسی ایسے نظام کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے جہاں کرپشن کے خدشات پیدا ہوں۔
انہوں نے تجویز دی کہ نکاح رجسٹریشن کے معاملات کو محکمہ امور دینیہ کے ذریعے ہی انجام دیا جائے کیونکہ یہ ادارہ پہلے سے ان معاملات کو بہتر انداز میں چلا رہا ہے۔
انہوں نے مہاجرین نشستوں کے مسئلے کو بھی ایک آئینی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس حوالے سے کوئی فیصلہ یا معاہدہ موجود ہے تو قانون ساز اسمبلی کا اجلاس طلب کر کے اس پر واضح اور آئینی طریقے سے فیصلہ کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر مولانا امتیاز احمد عباسی نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کا منشور ریاست کشمیر کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانا ہے جہاں عوام کو بنیادی حقوق، انصاف اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت ریاست کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور کشمیر کاز کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔




