تین ماہ میں سکول کی عمارت تعمیر،اوورسیز کشمیری کمیونٹی نے نئی مثال قائم کردی

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)اوورسیز کشمیری کمیونٹی نے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے گلی سیری درہ میں صرف تین ماہ کی قلیل مدت میں زلزلہ مزاحم ہائر سیکنڈری اسکول کی جدید عمارت تعمیر کر کے ایک نئی مثال قائم کر دی۔

اوورسیز کشمیریوں نے آزاد کشمیر کے دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے، نئی نسل کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید اور معیاری تعلیم کی فراہمی، صحت کی بنیادی سہولیات کی بہتری، خواتین کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشرے کے کمزور طبقات، خصوصاً نادار، مستحق اور معذور افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایک میچ سے کسی کھلاڑی کا فیصلہ نہیں ہوتا، فاسٹ بولر لاہور قلندرز حارث رؤف

امریکہ میں مقیم کشمیری کمیونٹی کی جانب سے تعمیر کردہ یہ تعلیمی ادارہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، جہاں اب دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔

ماضی میں اس علاقے کے بچوں کو تعلیمی سہولیات کی کمی کا سامنا تھا، تاہم اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف ان کی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ تعلیمی معیار میں بھی بہتری متوقع ہے۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی بیرونِ ملک مقیم کشمیری کمیونٹی کا یہ اقدام خطے کی سماجی و معاشی بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


غریب اور نادار افراد، بالخصوص وہ لوگ جو بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں، انہیں علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کئے گئے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ فوری واپس لے، ڈپٹی مئیر میونسپل کارپوریشن باغ

تقریب میں دی کریسنٹ چیئریٹی فاؤنڈیشن کے روحِ رواں مجیب قاضی، ایس پی ٹریفک ایبٹ آباد اشتیاق خان، اسسٹنٹ کمشنر مظفرآباد محی الدین گیلانی، اسسٹنٹ کمشنر یاسر بخاری، مجسٹریٹ بلدیہ سردار عمران، ایکسین ذوالفقار قریشی، چیئرمین ایس ایم سی قاضی محمد یونس، ٹی سی سی ایف کور کمیٹی کے اراکین، قاضی جاوید، قاضی صدیق، قاضی ظہور، فیاض مغل، سہیل قاضی، عبدالسلام قاضی، قاضی فیصل، ڈاکٹر خالدہ، عبدالوحید کھوکھر اور قاضی رئیس سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

دی کریسنٹ چیریٹی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تعمیر ہونے والی اس عمارت کو محکمہ تعلیم کے سپرد کرنے کے حوالے سے ایک پروقار تقریب ہائر سیکنڈری اسکول گلی سیری درہ میں منعقد ہوئی۔

شرکاء نے مجیب قاضی کی قیادت، خلوصِ نیت اور فلاحی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پر دی کریسنٹ چیریٹی فاؤنڈیشن کے تربیتی مراکز سے فارغ التحصیل مستحق خواتین میں سلائی مشینیں بھی تقسیم کی گئیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایک میچ سے کسی کھلاڑی کا فیصلہ نہیں ہوتا، فاسٹ بولر لاہور قلندرز حارث رؤف

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی مجیب قاضی نے کہا کہ گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول گلی سیری درہ کی جدید اور عصری طرز کی شاندار عمارت کا افتتاح ان کیلئے ایک دیرینہ خواب کی تعبیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تقریب محض ایک تعلیمی عمارت کی تکمیل نہیں بلکہ خدمتِ انسانیت، فلاحِ عامہ اور اخوت کے جذبے کا عملی مظہر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پسماندہ علاقے کے بچوں کو معیاری اور جدید تعلیم کی فراہمی ان کی زندگی کا ایک بڑا مقصد تھا۔ خواتین کو ہنر مند بنانا ان کی معاشی خودمختاری اور خود کفالت کی جانب ایک اہم اور دوراندیش قدم ہے، جو نہ صرف باعزت روزگار کو فروغ دے گا بلکہ معاشرے میں مثبت اور پائیدار تبدیلی کی بنیاد بھی رکھے گا۔

یہ تمام اقدامات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ اوورسیز کشمیری کمیونٹی نہ صرف اپنے آبائی علاقوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے بلکہ ایک خود کفیل، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کے قیام کے لیے بھی عملی طور پر سرگرمِ عمل ہے۔

Scroll to Top