پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے جاری بے یقینی کا خاتمہ کل متوقع ہے، جب حکومت ہفتہ وار شیڈول کے مطابق نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔

ذرائع کے مطابق، خطے کی کشیدہ صورتحال اور محدود مالی گنجائش کے باعث قیمتوں میں اضافے کے قوی خدشات موجود ہیں، تاہم حکومت عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی تیاری: وفاق اور صوبوں کا سبسڈی کا بوجھ بانٹنے پر اتفاق

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب عام سبسڈی کے بجائے موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو ‘ٹارگٹڈ سبسڈی’ دینے کی تجویز زیرِ غور ہے تاکہ غریب طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں صوبوں سے بھی اپنا حصہ ڈالنے کی درخواست کی ہے۔ اس وقت حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 105 روپے 37 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 55 روپے 24 پیسے لیوی وصول کر رہی ہے، جسے کم کر کے بھی عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ تین ہفتوں سے قیمتیں نہ بڑھا کر حکومت 129 ارب روپے کا بوجھ خود اٹھا رہی ہے، جس کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی جا چکی ہے۔

مزید پڑھیں: روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی، توانائی بحران بڑھنے کاخدشہ

اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیٹرول 63 روپے اور ڈیزل 60 روپے سے زائد مہنگا ہو چکا ہے۔ 28 فروری 2026 کو پیٹرول 258 روپے 17 پیسے تھا جو اب 321 روپے 17 پیسے کی سطح پر ہے، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 275 روپے 70 پیسے سے بڑھ کر 335 روپے 86 پیسے ہو چکا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ مٹی کے تیل میں دیکھا گیا جو 180 روپے سے بڑھ کر 433 روپے 40 پیسے تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بچتوں اور لیوی میں رد و بدل کے ذریعے مہنگائی کے نئے طوفان کو روکا جا سکے۔