سائنس دانوں کا دستانوں سے متعلق ہوشربا انکشاف: نئی تحقیق نے سب کو چونکا دیا

مشیگن : یونیورسٹی آف مشیگن کے ماہرینِ مٹی و ماحولیات نے ایک ایسی تحقیق پیش کی ہے جس نے دنیا بھر میں مائیکرو پلاسٹک کے حوالے سے اب تک ہونے والی تحقیقات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی جانب سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انسانی اعضا اور قدرتی ماحول میں مائیکرو پلاسٹک کی جو مقدار اب تک رپورٹ کی جاتی رہی ہے، وہ دراصل لیبارٹری کے دستانوں سے ہونے والی آلودگی کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

تحقیق کا اصل مقصد اور حیران کن نتائج:

حالیہ برسوں میں ایسی کئی تشویشناک رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مائیکرو پلاسٹک (5 ملی میٹر سے چھوٹے ذرات) انسانی خون، پیشاب، ماں کے دودھ اور یہاں تک کہ انٹارکٹکا کی برف میں بھی پائے گئے ہیں۔ ایک رپورٹ میں تو انسانی دماغ میں چائے کے چمچ کے برابر پلاسٹک کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم، مشیگن یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نمونے دراصل تجزیے کے دوران استعمال ہونے والے لیبارٹری دستانوں کے ذرات سے آلودہ ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بیمار ہونے پرکھانے کی خواہش کیوں ختم ہو جاتی ہے؟ سائنسدانوں نے تحقیق میں پتہ لگا لیا

اسٹیریٹ سالٹس اور مائیکرو پلاسٹک کا فرق:

تحقیق کے مطابق، لیبارٹری میں استعمال ہونے والے دستانوں سے نہایت معمولی باقیات خارج ہوتی ہیں جنہیں ‘اسٹیریٹ سالٹس’ کہا جاتا ہے۔ یہ مرکبات اپنی کیمیائی ساخت میں مائیکرو پلاسٹک ‘پولی ایتھائلین’ سے اس قدر مشابہت رکھتے ہیں کہ جدید ترین آلات بھی تجزیے کے دوران انہیں مائیکرو پلاسٹک ہی سمجھ لیتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دستانوں سے جھڑنے والے یہ باریک ذرات نمونوں میں شامل ہو کر نتائج کو کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے ہیں۔

عالمی سائنسی کمیونٹی میں ہلچل:

اس نئی دریافت نے ان تمام سابقہ رپورٹس کی ساکھ کو متاثر کیا ہے جن میں انسانی جسم میں پلاسٹک کی موجودگی کو ایک خوفناک حد تک دکھایا گیا تھا۔ اگرچہ مائیکرو پلاسٹک ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ ہے، لیکن اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ لیبارٹری کے اپنے آلات اور دستانوں نے ان سائنسی نتائج کو غیر حقیقی بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔