امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہماری فوج نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ایران ڈیل چاہتا ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور میامی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے نیوکلیئر بلیک میلنگ کو ختم کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف باصلاحیت، سنجیدہ اور معاملہ فہم رہنما ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ مشرق وسطیٰ میں استعمال کر چکا ہوتا،ہم ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر میں امریکا کا صدر نہ ہوتا تو آج امریکا ختم ہوچکا ہوتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے جرائم پیشہ افراد اور قاتلوں کو امریکا سے نکالا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی میں دنیا کے بدترین افراد کو امریکا میں داخلے کی اجازت دی گئی جبکہ موجودہ حکومت ایسے عناصر کے خلاف سخت موقف رکھتی ہے جو امریکا میں جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گی، امریکا نے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے بڑا اقدام کیا ، انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ ختم نہ کرتا تو آج اس کے پاس ایٹم بم ہوتا۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر سے متعلق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا کوئی پتہ نہیں چل رہا اگر وہ زندہ بھی ہیں تو بری حالت میں ہوں گے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات ہوں گے لیکن آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مزید10روز تک روکنے کا اعلان
ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر پاکستان بھارت جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں 9 جہاز گرائے گئے، وزیراعظم پاکستان شہبازشریف بہترین شخصیت ہیں،میں نے ٹیرف کا کہہ کرجنگ رکوائی۔مجھے نوبیل انعام ملنا چاہیے تھا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کسی نے سوچا نہیں تھا ایران سعودی عرب پرحملہ کریگا،ہم نے سوچا کہ ایران کو روکنے کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا پڑیگا۔




