امریکا نے 2 ایرانی رہنماؤں کو عارضی طور پر ٹارگٹ لسٹ سے ہٹادیا

واشنگٹن: امریکی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ممکنہ امن مذاکرات کے پیش نظر دو سینئر ایرانی عہدیداروں کو عارضی طور پر ہدفی فہرست سے نکال دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کا نام4 سے 5 روز کے لیے ٹارگٹ لسٹ سے ہٹایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران شکست تسلیم کرے ورنہ مزید نقصان پہنچائیں گے،وائٹ ہائوس

رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ترکیہ، پاکستان اور مصر کے ثالثین امریکا اور ایران کے درمیان فوری مذاکرات کیلئے قائل کرنے کوشش کر رہے ہیں تاکہ جنگ بندی ہوسکے جس کے بعد مزاکرات ممکن ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کادورہ کرینگے،امریکی میڈیا

تاہم اس حوالے سے حکام کی رائے ہے کہ امریکا اور ایران کی شرائط میں بڑے اختلافات کے باعث ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا نے جنگ بندی کیلئے 15 تجاویز دی تھیں جس کو ایران نے مسترد کرتے ہوئے اپنی 5شرائط پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی ہماری شرائط پر ہوگی۔

دوسری طرف وائٹ ہائوس کی ترجمان نے کہا ہے کہ اگر ایران نے ہار تسلیم نہ کی تو ٹرمپ انہیں مزید نقصان پہنچانےکے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایران کی شرائط پر ہوگا‘ 15 امریکی تجاویز مسترد

کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ آپریشن ایپک فیوری میں 9000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے 90 فیصد میزائل اور ڈرونز کو مار گرایا گیا، ایران کے 140 سے زائد بحری جہاز تباہ کیےگئے، دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار کسی نیوی کو اس حد تک تباہ کیا گیا۔

Scroll to Top