نیو یارک (کشمیر ڈیجیٹل)امریکا نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ بھیج دیا ۔ جس کا مقصد خطے میں جنگ بندی اور تنازعات کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ممکن ہو سکے ۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی جوہری مواد کی افزودگی کو بند کرے ۔
اس کے علاوہ ایران کے معروف جوہری پلانٹس، بشمول نیٹنز، اصفہان اور فردو کو بھی ختم کرنے یا غیر فعال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تجویز کیا گیا ہے کہ خطے میں جوہری سرگرمیاں محدود رہیں اور کسی ممکنہ تنازعے کا خطرہ کم ہو ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا کیساتھ پس پردہ مذاکرات کرنے والے ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کون ہیں؟
منصوبے کے دیگر نکات میں کہا گیا ہے کہ ایران کو خطے میں سرگرم پراکسی گروپز کو مالی امداد بند کرنے کا پابند بنایا جائے ۔
اسی طرح آبنائے ہرمز میں ایک آزاد میری ٹائم زون قائم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے تاکہ عالمی تجارت اور سمندری نقل و حمل میں شفافیت برقرار رہے ۔
امریکی میڈیا کے مطابق منصوبے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ایران کیساتھ بات چیت کیلئے وقتی جنگ بندی کا ماحول پیدا کیا جا سکے، جس کا دورانیہ تقریباً ایک ماہ ہو سکتا ہے ۔
اسرائیلی میڈیا نے بھی اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کیساتھ 15 نکاتی معاہدے پر بات چیت کیلئے وقتی امن کی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان ایران ،امریکہ مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے،وزیراعظم شہبازشریف
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔ تاہم اس کی کامیابی ایران کی رضامندی اور علاقے میں سیاسی و عسکری حالات پر منحصر ہوگی ۔




