مفتی عبدالرحیم

ملا منصور اخترکوامیر بنا کر ملا یعقوب کو 5 لاکھ ڈالرز د یکر دستبردار کرایاگیا، مفتی عبدالرحیم کا تہلکہ خیزانکشاف

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) جامعۃ الرشید کے سربراہ مفتی عبد الرحیم نے انکشاف کیا ہے کہ ملا عمر کا بیٹا ملا یعقوب بچہ تھا جب وہ پاکستان آیا تھا اور اس نے پاکستان میں تقریباً 20 سال گزارے ۔

مفتی عبد الرحیم نے کہا کہ اُس وقت ملا یعقوب بہت چھوٹا تھا اور اسے طالبان یا افغان سیاست کے معاملات کا کچھ پتہ ہی نہیں تھا ۔

ان کے مطابق ملا یعقوب اس لیے پاکستان سے ناراض تھا کیونکہ ملا عمر کے انتقال کی خبر کے بعد وہ چاہتے تھے کہ انہیں طالبان کا امیر مقرر کیا جائے لیکن ملا اختر منصور کو امیر بنایا گیا ۔

مفتی عبد الرحیم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے اداروں کے طالبان کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اور اس معاملے پر بڑی سطح پر مشاورت بھی ہوئی تھی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کابل میں سویلینز کی ہلاکتیں پروپیگنڈا،طالبان جنگجو وردی نہیں عام لباس پہنتے ہیں:ترجمان پاک فوج

چونکہ ملا یعقوب بچہ تھا اور اس نے افغانستان کبھی نہیں دیکھا، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ اسے فی الحال امیر نہیں بنایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ ملا اختر منصور کو پاکستان کے اداروں کی مدد سے امیر مقرر کیا گیا، جس پر ملا یعقوب بہت ناراض ہو گئے کیونکہ ان کے مطابق میرا حق بنتا تھا اور میں جانشین تھا ۔

ملا یعقوب کی ناراضگی کم کرنے کے لیے انہیں پانچ لاکھ ڈالر دیے گئے تاکہ وہ مطمئن ہو جائیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کل ملا یعقوب افغانستان کے نام نہاد وزیر دفاع ہیں ۔

 مزید یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کیخلاف تمام جماعتیں متحد،قبضہ کی گئی پوسٹیں نہیں چھوڑیں گے، سینیٹر افنان اللہ

جب میر بان کرن ناز نے سوال کیا کہ یہ پانچ لاکھ ڈالر کس نے دئیے تو مفتی عبد الرحیم نے جواب دیا کہ یہ مختلف ملکوں کے مختلف طریقے کار ہوتے ہیں جب وہ کسی کی مدد کرتے ہیں ۔

Scroll to Top