بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے حوالے سے اہم ترین معلومات سامنے آئی ہیں جس کے تحت پرائمری سے لے کر ہائیر سیکنڈری یعنی انٹرمیڈیٹ تک کے طلبہ کو ہر تین ماہ بعد وظیفہ دیا جائے گا۔ اس پروگرام میں شمولیت کے لیے ضروری شرائط اور رجسٹریشن کا مکمل طریقہ کار واضح کر دیا گیا ہے تاکہ مستحق طلبہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
رجسٹریشن کے لیے کچھ بنیادی کاغذات اور شرائط پر پورا اترنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے بچے کی والدہ کا پہلے سے ‘بینظیر کفالت پروگرام’ کا حصہ ہونا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بچے کا نادرا سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ ب فارم ہونا بھی لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عید سے پہلے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری
عمر کی حد کے حوالے سے بھی مخصوص معیار مقرر کیا گیا ہے جس کے مطابق پرائمری کے لیے 4 سے 12 سال اور سیکنڈری کے لیے 8 سے 18 سال کی عمر ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح ہائیر سیکنڈری یعنی انٹر کے لیے عمر کی حد 13 سے 22 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔ وظیفہ حاصل کرنے کا طریقہ کار مختلف مراحل پر مشتمل ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ پہلے مرحلے میں آپ کو اپنے بچے اور اس کے ب فارم کے ساتھ قریبی بی آئی ایس پی (BISP) تحصیل دفتر تشریف لے جانا ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں وہاں موجود عملہ آپ کو ایک ‘انرولمنٹ سلپ’ جاری کرے گا۔ تیسرے مرحلے میں اس سلپ کو بچے کے اسکول لے جا کر وہاں کے ہیڈ ماسٹر یا کلاس ٹیچر سے پُر کروانا ہوگا اور اس پر اسکول کی مہر لگوانا لازمی ہوگی۔ چوتھے اور آخری مرحلے میں یہ مکمل شدہ سلپ واپس بی آئی ایس پی دفتر میں جمع کروانا ہوگی، جس کے فوری بعد آپ کا وظیفہ شروع ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام 2026: رجسٹریشن کا طریقہ کار مزید آسان، مکمل گائیڈ جاری
حکومت نے ملک میں بچیوں کی تعلیم کی خصوصی حوصلہ افزائی کے لیے ان کا وظیفہ لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ رکھا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ پرائمری تعلیم کے لیے رقم 3ہزار روپے اور 2ہزار5سو روپے رکھی گئی ہے۔ سیکنڈری یعنی میٹرک کے طلبہ کے لیے یہ رقم 4ہزار روپے سے 3ہزار5سو روپے کے درمیان ہے جبکہ ہائیر سیکنڈری یعنی انٹر کے لیے 5ہزار روپے اور 4ہزار5سو روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، وہ بچیاں جو اپنی پرائمری تعلیم کامیابی سے مکمل کریں گی، انہیں حکومت کی جانب سے 3ہزار روپے کا خصوصی گریجویشن بونس بھی دیا جائے گا تاکہ وہ اگلی کلاسوں میں داخلہ لے سکیں۔




