افغان سیکیورٹی گارڈ نے بھانڈا پھوڑ دیا: ہسپتال پر حملے کے بھارتی اور افغان پروپیگنڈے کا پول کھل گیا

افغان سرحد کے اس پار سے کیے جانے والے منظم پروپیگنڈے اور بھارتی میڈیا کے مبالغہ آمیز دعوؤں کو خود ایک افغان سیکیورٹی گارڈ کے عینی شاہد بیان نے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز (ڈرگ ری ہیب سینٹر) پر تعینات سیکیورٹی گارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ جس واقعے کو ہسپتال پر حملے کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، وہ حقیقت میں اس طبی مرکز سے تقریباً 200 میٹر دور پیش آیا۔

سیکیورٹی گارڈ کے مطابق، حملے کے نتیجے میں کسی بڑے جانی نقصان کی خبریں سراسر جھوٹی ہیں؛ صرف چند افراد کو معمولی چوٹیں آئیں اور تمام زخمیوں کی حالت مستحکم اور وہ مکمل محفوظ ہیں۔ اس بیان نے ان تمام عالمی خبروں کی تردید کر دی ہے جن میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عینی شاہد نے اس علاقے میں اینٹی ایئر کرافٹ (طیارہ شکن) فائرنگ کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ نشانہ بنایا گیا مقام کوئی شہری ہسپتال نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عسکری کمپاؤنڈ تھا جہاں سے دفاعی فائرنگ کی جا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا بڑا جھوٹ پکڑا گیا: پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا اور جعلی ویڈیو بے نقاب

ماہرین کا کہنا ہے کہ عینی شاہد کی اس رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت اور طالبان نواز مخصوص حلقے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے من گھڑت کہانیاں تخلیق کر رہے تھے۔ یہ حقائق اس جھوٹے پروپیگنڈے کو یکسر رد کرتے ہیں جس کا مقصد ایک خالصتاً عسکری ہدف کو شہری ہسپتال قرار دے کر پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سیکیورٹی گارڈ کی یہ گواہی اس معلوماتی جنگ میں پاکستان کے موقف کی بڑی جیت ہے۔

Scroll to Top