وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت اب اس کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق اب غیر ملکی شہری اور ادارہ جاتی سرمایہ کار بھی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھول سکیں گے۔ اس نئے فیصلے کے بعد غیر ملکی کمپنیوں کو بھی حکومتی سیکیورٹیز اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کی باقاعدہ اجازت ہوگی۔
اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم اب تک بہت کامیاب رہی ہے جس میں اب تک 9 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس کھل چکے ہیں اور ان اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان میں 12 ارب ڈالر سے زیادہ کا سرمایہ آ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج: 13,000 روپے کی فوری تقسیم کا فیصلہ، 9999 ایس ایم ایس سروس کا آغاز
ملک کی معاشی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں ترسیلات زر 38.3 ارب ڈالر رہیں جبکہ رواں مالی سال میں ان کے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔ اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 16.3 ارب ڈالر ہیں جبکہ پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 31.6 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ یاد رہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا آغاز اسٹیٹ بینک نے 10 ستمبر 2020 کو کیا تھا تاکہ پاکستان کا مالیاتی منڈیوں کے ساتھ رابطہ مضبوط ہو سکے۔
مزید پڑھیں: ہر پاکستانی کو عیدی ملے گی؟ حکومت کا ’پی ایم عیدی پروگرام 2026‘کا منصوبہ
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تفصیلات:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس اسکیم کی کارکردگی کے حوالے سے تازہ ترین ماہانہ رپورٹ بھی جاری کر دی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر 2025 کا مہینہ اس اسکیم کے لیے انتہائی کامیاب رہا، جس میں محض ایک ماہ کے دوران 10,601 نئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ ان نئے اکاؤنٹس کے بعد ملک بھر میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی کل تعداد اب 8 لاکھ 62 ہزار 357 تک پہنچ گئی ہے۔
مالیاتی لحاظ سے دیکھا جائے تو ستمبر 2025 کے دوران ان اکاؤنٹس میں 19 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم جمع کرائی گئی ہے۔ اس تازہ اضافے کے ساتھ ستمبر 2020 سے لے کر ستمبر 2025 تک ان اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان میں جمع ہونے والا کل سرمایہ 11 ارب 10 کروڑ ڈالر کی سطح کو چھو گیا ہے۔ جہاں سرمایہ کاری اور رقوم کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، وہیں ستمبر کے مہینے میں ان اکاؤنٹس سے 1.90 کروڑ ڈالر نکالے بھی گئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2020 سے ستمبر 2025 تک کے پانچ سالہ عرصے میں ان اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر 1 ارب 87 کروڑ ڈالر نکالے جا چکے ہیں۔ اسی طرح ستمبر 2025 تک روشن کھاتوں سے 11.7 کروڑ ڈالر پاکستان میں براہ راست خرچ کیے گئے، جبکہ اسی مدت کے دوران ان اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے مجموعی سرمائے میں سے 7 ارب 11 کروڑ ڈالر پاکستان کے مختلف شعبوں میں استعمال کیے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2025 تک روشن برقی کھاتوں میں واجب الادا ڈپازٹس کی مجموعی مالیت 2.11 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی یہ کامیابی عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔




