محکمہ صحت کے ملازمین کا آزادی چوک میں احتجاج، مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

مظفرآباد: آزاد کشمیر کے محکمہ صحت کے ملازمین اپنے جائز مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں مرد و خواتین ملازمین نے مظفرآباد کے ‘آزادی چوک’ میں جمع ہو کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے رویے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

ملازمین کے چارٹر آف ڈیمانڈز:

احتجاجی ملازمین نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات کی ایک طویل فہرست رکھی ہے، جن میں درج ذیل نکات سرِ فہرست ہیں:

  • ہیلتھ و ریسک الاؤنس: پیشہ ورانہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریسک اور ہیلتھ الاؤنس کی فوری فراہمی۔
  • سروس اسٹرکچر کی اصلاح: ملازمین کی بروقت ترقی، گریڈ ایڈجسٹمنٹ اور کیریئر پراگریشن کے نظام کو بہتر بنانا۔
  • امتیازی سلوک کا خاتمہ: ڈاکٹرز اور دیگر پیرا میڈیکل اسٹاف کے درمیان مراعات اور الاؤنسز میں پائے جانے والے فرق کو ختم کر کے مساوات قائم کرنا۔
  • ملازمین کی مستقلی: کئی برسوں سے فرائض سرانجام دینے والے کنٹریکٹ اور عارضی ملازمین کو مستقل کرنا۔
  • مراعات میں اضافہ: سروس بینیفٹس اور اضافی الاؤنسز کی منظوری۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: ریسکیو 1122 ملازمین کا رسک الاؤنس کی عدم ادائیگی پر پریس کلب کے سامنے دھرنا

دھرنا اور احتجاج:
مظاہرین کا موقف ہے کہ وہ طویل عرصے سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے صرف تسلیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بار وہ کسی خالی وعدے پر گھروں کو واپس نہیں جائیں گے۔ آزادی چوک میں دیا گیا دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

احتجاج میں وسعت کا عندیہ:
ملازمین کے قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ کار پورے آزاد کشمیر تک وسیع کر دیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ اس احتجاج کے باعث ہسپتالوں میں انتظامی امور متاثر ہونے کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ہر پاکستانی کو عیدی ملے گی؟ حکومت کا ’پی ایم عیدی پروگرام 2026‘کا منصوبہ

Scroll to Top