نیویارک: عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمتوں میں یکدم 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی بیرل قیمت 102 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی خام تیل کے ساتھ ساتھ برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے اور یہ 106 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔
تیل کمپنیوں کی ٹرمپ انتظامیہ کو وارننگ:
امریکی اخبار کے مطابق بڑی عالمی تیل کمپنیوں EXXON، CHEVRON اور CONOCOPHILLIPS کے سربراہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو باضابطہ طور پر خبردار کر دیا ہے کہ توانائی کا موجودہ بحران مزید بگڑ سکتا ہے۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو سپلائی چین شدید متاثر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، ماہرین نے ٹرمپ کو خبردار کردیا
آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کا بحران:
تیل کمپنیوں کے سربراہوں نے اس سنگین صورتحال کی سب سے بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اہم ترین بحری گزرگاہ کی بندش عالمی سطح پر تیل کی ترسیل میں رکاوٹ بن رہی ہے، جس کے براہِ راست اثرات قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔




