وزیر اعظم

وزیر اعظم کی خلیجی ممالک کو وافر مقدار میں اشیاء خوردو نوش برآمد کرنے کی ہدایت

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ملک کی غذائی ضروریات، اشیائے خورونوش کے موجودہ ذخائر اور ممکنہ برآمدات پر تفصیلی غور کیا گیا ۔

اجلاس میں متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ پاکستان میں غذائی اجناس کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی بنیادی خوراک کی کمی کا فی الحال کوئی خدشہ نہیں۔ بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ زرعی شعبہ مضبوط ہے اور گندم، چاول، سبزیاں، پھل، گوشت، مرغی، دودھ اور سمندری غذا سمیت مختلف اشیاء کی پیداوار مناسب سطح پر جاری ہے ۔

حکام نے مزید بتایا کہ عالمی ترسیلی راستوں میں موجود رکاوٹوں کے باعث کئی ممالک کو خوراک کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس سے پاکستان کیلئے برآمدی مواقع بڑھ گئے ہیں ۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ ملکی غذائی ضروریات کو ہر صورت ترجیح دی جائے اور برآمدات کے عمل سے مقامی مارکیٹ میں اشیاء کی دستیابی متاثر نہ ہو ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کا خدشہ؛ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہنگامی قدم اٹھا لیا

انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو خلیجی ممالک کو درکار غذائی اجناس کی ترسیل کیلئےجامع حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ پاکستان اپنی زرعی پیداوار کے ذریعے ان ممالک کے غذائی تحفظ میں مؤثر کردار ادا کر سکے ۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن بحری راستوں کے ذریعے غذائی اجناس کی ترسیل کو مؤثر بنانے میں فعال کردار ادا کرے گی، جس سے نہ صرف برآمدات میں تیزی آئیگی بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا ۔

وزیرِ اعظم نے برآمدی غذائی اشیاء کے معیار کو عالمی معیار کے مطابق یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ پاکستانی مصنوعات کی ساکھ مضبوط ہو۔ اس مقصد کیلئے معیار کی جانچ، پیکنگ اور ترسیل کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی ۔

اجلاس کے آخر میں وزیرِ اعظم نے ایک خصوصی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی جو روزانہ کی بنیاد پر ملک میں غذائی صورتحال، ذخائر اور برآمدی امکانات کا جائزہ لے گی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف ہنگامی دورے پر سعودی عرب روانہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اہم ملاقاتیں متوقع

ساتھ ہی بیرونِ ملک تعینات پاکستانی سفیروں اور تجارتی نمائندوں کو خلیجی ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی طلب اور مواقع پر نظر رکھنے اور نئی منڈیوں تک رسائی کیلئے فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ۔

Scroll to Top