لداخ/ نئی دہلی: بھارتی حکومت نے لداخ کے معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک کو چھ ماہ کی طویل قید کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وانگچک کو متنازع “نیشنل سیکیورٹی ایکٹ” جیسے کالے قانون کے تحت اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔
سونم وانگچک، جو اپنی اختراعی سوچ اور تعلیمی خدمات کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، ان کی گرفتاری نے بھارت کے اندر اور باہر انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وانگچک جیسے محبِ وطن شہری کو صرف اس لیے سزا دی گئی کیونکہ انہوں نے نئی دہلی کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے کی جرات کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں کارروائیاں عالمی قوانین کے عین مطابق، بھارتی الزامات بے بنیاد اور منافقت پر مبنی ہیں: پاکستان
آئینی حقوق کا مطالبہ اور ریاستی جبر:
سونم وانگچک لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے اور مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے تھے۔ تاہم، بھارتی حکومت نے ان کے اس جمہوری مطالبے کو ریاست کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان پر کڑے قوانین لاگو کر دیے اور انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔
بھارت میں اختلافی آوازوں کو دبانے کا رجحان:
تجزیہ کاروں کے مطابق، وانگچک کی چھ ماہ کی قید اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ موجودہ بھارت میں اختلاف رائے کی کوئی جگہ نہیں ۔ یہاں تک کہ وہ افراد جو ملک کے خیر خواہ سمجھے جاتے ہیں، اگر وہ مرکزی حکومت کے فیصلوں کے خلاف آواز بلند کریں، تو انہیں ریاست کی پوری طاقت سے کچل دیا جاتا ہے۔




