پاکستان میں ایل پی جی کی فراہمی کے حوالے سے ایک سنگین بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے وزیرِ پیٹرولیم کو ایک باضابطہ اور ہنگامی خط ارسال کیا ہے جس میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی حالیہ کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قیمتوں پر فوری نظرِ ثانی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مداخلت نہ کی تو ملک بھر میں گیس کی دستیابی کا بڑا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے لکھے گئے اس مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ موجودہ قیمتیں عالمی مارکیٹ میں ایل پی جی کی اصل درآمدی لاگت کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ اس فرق کی وجہ سے درآمد کنندگان کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں کئی امپورٹرز نے بیرون ملک سے مزید گیس منگوانے کے آرڈرز میں کمی کر دی ہے۔ خط میں انتباہ دیا گیا ہے کہ پاکستان کی مقامی پیداوار کل ضرورت کا صرف 30 فیصد ہے جبکہ بقیہ 70 فیصد حصہ درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے ڈالر کی قدر اور عالمی قیمتوں کو نظر انداز کرنے سے سپلائی چین مکمل طور پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایل پی جی مزید مہنگی، فی کلو قیمت میں بڑا اضافہ
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ قیمتوں کا تعین مارکیٹ کے اصل حالات کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور ہوٹل مالکان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی فراہمی موجود نہیں اور لوگوں کا تمام تر انحصار ایل پی جی پر ہے۔ ایسوسی ایشن نے اوگرا کی سخت کارروائیوں اور نگرانی کے عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے کاروباری سرگرمیاں رک رہی ہیں اور متعدد پلانٹس مالی دباؤ کی وجہ سے بندش کی نہج پر پہنچ چکے ہیں، جس سے ہزاروں افراد کے روزگار کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ایل پی جی سیکٹر کو درپیش ان مسائل کو فوری طور پر حل کرے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری قیمت اور اصل مارکیٹ لاگت میں واضح فرق کی وجہ سے ڈسٹری بیوٹرز گیس خریدنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر فوری نظرِ ثانی کی جائے تاکہ ملک میں توانائی کی اس اہم متبادل گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور درآمد کنندگان سمیت صارفین کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو۔




