عام درد کش ادویات کیا نقصان پہنچا سکتی ہیں؟ ماہرین نے خبردار کر دیا

لندن:طبی ماہرین نے ایک حالیہ تحقیق کے بعد خبردار کیا ہے کہ عام طور پر استعمال ہونے والی درد کش ادویات کا ضرورت سے زیادہ اور مسلسل استعمال گردوں کی کارکردگی کو مستقل طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین نے عوام کو ان ادویات کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو درد کے علاج کے لیے اینٹی انفلیمیٹری ادویات، بالخصوص آئیبو پروفین (Ibuprofen) پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر یہ ادویات زیادہ مقدار میں یا طویل عرصے تک استعمال کی جائیں تو یہ گردوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ اس قسم کی ادویات گردوں تک خون کے بہاؤ کو کم کر دیتی ہیں اور ان کے بافتوں (ٹشوز) کو براہِ راست متاثر کرتی ہیں، جس سے گردوں کے فیل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتوں کو پھر ریورس گیئر لگ گیا؛ فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

ادارہ کڈنی کیئر یو کے (Kidney Care UK) اور نیشنل فارمیسی ایسوسی ایشن کے مطابق، درد کے علاج کے لیے اینٹی انفلیمیٹری ادویات کا غیر ضروری استعمال ہر صورت ترک کر دینا چاہیے۔ ماہرین نے خاص طور پر ان افراد کو سخت احتیاط کی ہدایت کی ہے جنہیں گردوں کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جیسے کہ شوگر (ذیابیطس) کے مریض یا ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد۔ تحقیق کے مطابق نان اسٹرائیڈل اینٹی انفلیمیٹری ادویات (NSAIDs) جیسے نیپروکسن (Naproxen) اور ڈیکلو فینک (Diclofenac) نہ صرف بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہیں بلکہ گردوں کے اندر موجود خون کی باریک نالیوں کو بھی مستقل نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا اثر؛ عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

نیشنل فارمیسی ایسوسی ایشن کے چیئرمین اولیور پیکارڈ (Olivier Picard) کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ادویات میں جہاں شفا دینے کی طاقت ہوتی ہے، وہیں ان کا غلط استعمال نقصان پہنچانے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ماہرین نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ صحت مند گردوں والے افراد بھی اگر یہ ادویات زیادہ مقدار میں اور طویل عرصے تک استعمال کریں تو وہ بھی گردوں کے امراض کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا، ادویات کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے اور ضرورت کے عین مطابق ہونا چاہیے تاکہ گردوں جیسی اہم انسانی مشینری کو کسی بھی بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔

Scroll to Top