متحدہ عرب امارات میں گمراہ کن ویڈیوز پھیلانے پر کریک ڈاؤن؛ 10 افراد کی فوری گرفتاری کا حکم

دبئی: سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیشِ نظر دنیا بھر میں آزادیٔ اظہارِ رائے سے متعلق قوانین کے نفاذ اور ان کی عملداری میں غیر معمولی سختی اختیار کی جا رہی ہے۔  اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے حساس نوعیت کے ویڈیو کلپس نشر کرنے کے الزام میں 10 افراد کی گرفتاری کا حکم جاری کرتے ہوئے انہیں فوری سماعت کے لیے عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ بڑا اقدام قومی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ زیرِ تفتیش مواد میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو ناکام بنانے سے متعلق حقیقی ویڈیوز کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے من گھڑت مناظر بھی شامل تھے جنہیں سوشل میڈیا پر پھیلا کر عوامی رائے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ویڈیوز معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور غلط معلومات پھیلانے کا بڑا سبب بن سکتی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض ویڈیو کلپس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا جبکہ کچھ ویڈیوز میں دانستہ ترمیم کر کے انہیں حقیقت سے مختلف دکھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کی سمندر میں میزائلوں کی بوچھاڑ؛ امریکہ اور جنوبی کوریا کو ‘خوفناک نتائج’ کی وارننگ

حکام کے مطابق ان ویڈیوز کو ہزاروں افراد تک پہنچانے کی کوشش کی گئی جس کے باعث متعلقہ اداروں نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا۔ متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے ہدایت جاری کی ہے کہ تمام ملزمان کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ تیز رفتار قانونی کارروائی کے ذریعے معاملے کا فیصلہ کیا جا سکے۔ حکام کا واضح موقف ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے جھوٹی یا گمراہ کن معلومات پھیلانا ملکی قوانین کے تحت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے قومی سلامتی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ریاستی حکام نے عوام کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ کسی بھی ویڈیو یا خبر کو بغیر تصدیق کے آگے پھیلانے سے مکمل گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے حاصل شدہ معلومات پر ہی اعتماد کریں۔ حالیہ کارروائی اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ریاستی سلامتی اور عوامی نظم و امان کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف “زیرو ٹالرنس پالیسی” اختیار کی جا رہی ہے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر افواہوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ معاشرے کے استحکام اور اعتماد کو ہر صورت برقرار رکھا جا سکے۔

Scroll to Top