عالمی سیاسی صورتحال اور امریکا و اسرائیل کے حملوں کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈی میں روسی تیل کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس اہم سمندری گزرگاہ کی بندش کے بعد اب روس دنیا کو یومیہ 15 کروڑ ڈالر کا تیل فروخت کر رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور عالمی دباؤ کو کم کرنے کے لیے امریکا نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے روسی تیل کی فروخت پر لگی پابندیاں عارضی طور پر ختم کر دی ہیں۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے بحران کے دوران تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں مائنز بچھانے والی 16 ایرانی کشتیاں تباہ:امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ
امریکی جریدے فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، روس نے حالیہ دنوں میں چین اور بھارت کو بڑے پیمانے پر تیل فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روس نے صرف ان دو ممالک کو بیچے گئے تیل پر ٹیکس کی مد میں 2 ارب ڈالرز کمائے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے روس کے لیے عالمی معیشت میں ایک نیا اور مضبوط راستہ کھول دیا ہے۔




