مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)چیف جسٹس آزاد کشمیر راجہ سعید اکرم خان نے 1989 کے مہاجرین بحالی کوٹا کیس میں حکمِ امتناعی جاری کر دیا ۔
آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے 1989 کے مہاجرین بحالی کوٹا کیس میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اس کیس کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی کارروائی یا فیصلہ عارضی طور پر مؤخر رہے گا یعنی حکومت یا متعلقہ ادارے اس معاملے میں کوئی اقدام نہیں کر سکیں گے جب تک کہ عدالت حتمی فیصلہ صادر نہ کرے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس راجہ سعید اکرم بھمبرپہنچ گئے،نئی سول کورٹ ،ایڈیشنل تحصیل فوجداری عدالت کا افتتاح
اس حکمِ امتناعی کا مقصد ہے کہ مہاجرین کے حقوق اور قانونی حیثیت متاثر نہ ہو اور کیس کی مکمل سماعت کے دوران کسی فریق کو نقصان نہ پہنچے ۔ عدالت کے مطابق یہ فیصلہ خصوصی طور پر 1989 کے مہاجرین بحالی کوٹے سے متعلق ہے، جس میں ان افراد یا خاندانوں کو دوبارہ آباد کرنے یا ان کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قانونی پیچیدگیاں شامل ہیں ۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ حکم عارضی ہے اور صرف اس وقت تک مؤثر رہے گا جب تک کہ عدالت کیس کی مکمل سماعت کے بعد حتمی فیصلہ صادر نہ کرے ۔ اس فیصلے کے بعد متعلقہ محکموں اور افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکمِ امتناعی کی روشنی میں کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کریں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس راجہ سعید اکرم میرپور پہنچ گئے، سپریم کورٹ کی نئی عمارت اسٹیٹ آف آرٹ ہونی چاہیے ، شجرکاری مہم کا افتتاح
یہ کیس آزاد کشمیر میں مہاجرین کے حقوق اور بحالی کے نظام کے حوالے سے اہم نوعیت کا ہے اور عدالت کا یہ اقدام قانونی عمل میں توازن قائم رکھنے کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔




