اسلام آباد : پاکستان میں آزادی اظہار رائے کے حق اور اس پر عائد آئینی و قانونی حدود و قیود کے حوالے سے آج وفاقی دارالحکومت میں اہم گفتگو کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر قانون، وزیر اطلاعات اور وزیر مملکت برائے داخلہ نے مشترکہ طور پر آئین کے آرٹیکل 19 کی روشنی میں ریاست کا بیانیہ واضح کیا ہے، جس میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا حق کسی بھی صورت ملکی مفادات سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
حکومتی وزراء نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو اپنی رائے دینے کا حق تو دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ قانونی حدود بھی واضح کرتا ہے۔ اس سلسلے میں دو سال قبل ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پیش کیے گئے موقف کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں عسکری قیادت نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ آزادی اظہار رائے کے پیچھے چھپ کر پاکستان کی سالمیت، سیکیورٹی اور دفاع پر وار کرنے کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے مارچ کی تنخواہ اور پنشن وقت سے پہلے دینے کا اعلان کر دیا
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس وقت بھی یہ واضح کیا تھا کہ آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسے دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس حق کی آڑ میں قوم کی اخلاقیات اور امن و عامہ (Law and Order) کے نظام کو تباہ کرنے کی کوشش کرنا کسی طور قبول نہیں۔ پاکستان کا آئین ریاست پاکستان اور افواجِ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈا یا ہرزہ سرائی کی اجازت نہیں دیتا۔
آج وفاقی وزیر قانون ، وزیر اطلاعات اور وزیر مملکت برائے داخلہ نے آزادی اظہار رائے کےحوالے سے اہم گفتگو کی، 2سال قبل ڈی جی آئی آیس پی آر بھی آئین کے آرٹیکل 19 پر یہی مؤقف پیش کر چکےہیں،،،
آزادی اظہار رائے کے پیچھے چھپ کے پاکستان کی سالمیت، سیکیورٹی اور دفاع پر وار نہیں کیا جا… pic.twitter.com/WlipU1DUw7— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) March 10, 2026
وفاقی وزراء نے آج اسی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ملکی دفاع اور سلامتی کے اداروں کو نشانہ نہ بنائیں۔ ریاست کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے ایک مقدس حق ہے مگر اسے ملک دشمن عناصر کے ایجنڈے کو پروان چڑھانے یا قومی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرنا قانونی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔




