مظفرآباد : دارالحکومت مظفرآباد میں ریسکیو 1122 کے ملازمین نے رسک الاؤنس کی عدم ادائیگی کے خلاف پریس کلب مظفرآباد کے سامنے احتجاجی دھرنا دے دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں کیے جاتے، ان کا یہ احتجاج مسلسل جاری رہے گا۔
احتجاج میں شریک ریسکیو اہلکاروں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بھی دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کی طرح رسک الاؤنس فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 ایک ایسا حساس ادارہ ہے جو چوبیس گھنٹے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیتا ہے۔ چاہے سڑک حادثات ہوں، آگ لگنے کے واقعات ہوں، قدرتی آفات ہوں یا کوئی بھی دوسری ہنگامی صورتحال، ریسکیو اہلکار ہمیشہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کو بچاتے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں بنیادی مراعات سے محروم رکھا جا رہا ہے جو کہ ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہیلتھ ملازمین کا احتجاج 24 ویں دن میں داخل، وزیراعظم فیصل راٹھور سے نوٹس لینے کا مطالبہ
ملازمین نے انکشاف کیا کہ رسک الاؤنس کی منظوری کے لیے ان کی فائل کئی مرتبہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو بھجوائی جا چکی ہے، تاہم تاحال اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت یا عملی اقدام سامنے نہیں آ سکا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کا یہ مطالبہ سراسر جائز اور حق پر مبنی ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ کسی تاخیر کے بغیر اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالے۔
ریسکیو ملازمین نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاجی کیمپ ختم نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں نے عوام کو اطمینان دلاتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے باوجود عوامی خدمت کا سلسلہ کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مظاہرین کے مطابق کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر کارروائی کے لیے الرٹ رہیں گی۔ تمام ضروری آلات، فائر فائٹنگ گاڑیاں اور دیگر ریسکیو سامان احتجاجی مقام پر ہی موجود ہے اور اہلکار اسی کیمپ سے ہنگامی کالز پر بروقت رسپانس دیں گے تاکہ شہریوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔




