تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری، انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز سامنے آگئی

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل ششماہی اقتصادی جائزے کے مذاکرات جاری ہیں، جس میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے حوالے سے اہم خبر سامنے آئی ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام نے آئی ایم ایف کو ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور نئے بجٹ کی ٹیکس تجاویز پر بریفنگ دی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ معیشت میں بہتری کے باوجود امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے خطرات اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے، تاہم ترسیلات زر مستحکم رہنے کی امید ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے اور انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی کے لیے آئی ایم ایف کی منظوری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ سیکٹر اور امیر طبقے پر عائد سپر ٹیکس کو ختم کرنے کے لیے بھی آئی ایم ایف سے اجازت لی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے مارچ کی تنخواہ اور پنشن وقت سے پہلے دینے کا اعلان کر دیا

مذاکرات کے دوران بتایا گیا کہ علاقائی تناؤ کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ فروری 2026 میں بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) 7.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ خوراک اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں سے اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ رواں مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد تھا، لیکن اب اس کے 4 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جی ڈی پی گروتھ 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچائے جائیں، جبکہ اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس 16.3 ارب ڈالر موجود ہیں۔ اس سال ترسیلات زر 43 ارب ڈالر تک رہنے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب ڈالر تک جانے کا امکان ہے۔ بجٹ تجاویز میں پراپرٹی انکم پر ٹیکس میں کمی اور برآمدات پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس واپس لینے کی باتیں بھی شامل ہیں، جن پر آئی ایم ایف سے مزید مشاورت جاری رہے گی۔

مزید پڑھیں: عید الفطر 2026: نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کا طریقہ اور سرکاری گائیڈ لائنزجانیے

Scroll to Top