ایران کے دارالحکومت تہران میں جاری جنگ کے دوران ایک بار پھر شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں، جنہیں جنگ کے آغاز سے اب تک کی سب سے طاقتور اور تباہ کن بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔ ان تازہ حملوں کے بعد کئی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چند گھنٹے قبل ہونے والے ان حملوں میں تہران کے مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ ان کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں اور عمارتوں کے کھڑکی دروازے زور دار جھٹکوں سے لرز اٹھے، جس کے باعث شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔ امدادی اداروں اور سکیورٹی حکام نے متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی نئی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جائیگا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی تہران میں رسالت اسکوائر کے قریب ہونے والے ایک شدید حملے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔ خدشہ ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تہران کے علاوہ کرج میں ہونے والے حملوں سے بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے جس سے کئی علاقوں میں اندھیرا چھا گیا ہے، تاہم بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے۔
ایران کے تاریخی شہر اصفہان سے بھی حملوں کی خبریں آئی ہیں جہاں گورنر ہاؤس اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ایک تاریخی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے بعد عالمی سطح پر پرانے ورثے کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش جتائی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ شروع ہونے سے اب تک کل ہلاکتیں 1300 سے بڑھ چکی ہیں اور ہزاروں لوگ زخمی ہیں، جس سے انسانی بحران کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: مجتبیٰ خامنہ ای بھی قتل ہو سکتے ہیں، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان جاری کیا ہے کہ امریکی فوج ایرانی میزائل لانچرز کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر کہا گیا ہے کہ امریکی فوج ایرانی میزائل نظام کی تلاش جاری رکھے گی اور جہاں بھی یہ سسٹم ملے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔




