واشنگٹن سے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو اس بارے میں بتا دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے سمیت دیگر امریکی مطالبات ماننے سے انکار کرتا ہے، تو وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے خلاف مہلک کارروائی کی حمایت کر سکتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ کارروائی کے لیے اسرائیل کی جانب سے آپریشن کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہونے پر خوش نہیں ہیں اور وہ پہلے بھی انہیں ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں۔ امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران میں نیا رہنما ایسا ہونا چاہیے جو پوری دنیا کے لیے قابل قبول ہو۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران اپنا ایٹمی پروگرام ختم نہیں کرتا تو وہ ایرانی رہنما کے خلاف کارروائی کا ساتھ دیں گے۔ اس خبر کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹائم میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “میں یہ سب اس لیے نہیں کر رہا کہ آخر میں ہمیں ایک اور خامنہ ای مل جائے”۔




