پیپلز پارٹی صدارتی انتخاب سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہے؟تجزیہ کارغلام اللہ اعوان نے کھل کر بات کی

تجزیہ کار غلام اللہ اعوان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو قائم ہوئے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن عوامی حلقوں میں بعض حکومتی معاملات پر عدم اطمینان پایا جا رہا ہے۔

غلام اللہ اعوان کے مطابق، ریاست میں اس وقت دو اہم ترین مسائل سر فہرست ہیں: پہلا، چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے باوجود نئے صدر کا انتخاب نہ ہونا، اور دوسرا پڑھے لکھے نوجوانوں کا کیا مستقبل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مانا کہ ایڈہاک ملازمین اپنے خاندان کا پیٹ پال رہے لیکن ان کی سیٹیں سیاستدانوں کے رشتے دار ہو نے کی حیثیت سے ملی ہو تی ہیں جس کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوانوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر آزادکشمیرکے انتخاب کے طریقہ کار کیخلاف ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت صدارتی انتخاب کروانے سے ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتی ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی اپنی اکثریت کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن نمبر گیم کی حقیقت کچھ اور ہی اشارہ کر رہی ہے۔ کیونکہ صدر زرداری اور فریال تالپور کی اجازت کے باوجود عدم اعتماد تحریک نہیں لائی گئی، اپوزیشن بھی اپنے امیدوار لانے کے لیے پر تول رہی ہےاور ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس نمبرز پورے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈپٹی سپیکر کا تعلق پیپلز پارٹی سے نہیں بلکہ انوار الحق گروپ سے ہے اور ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لیے پیپلز پارٹی کے پاس نمبرز پورے نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت صدارتی انتخاب کو موخر کر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر کے ساتھ ہی نظام چلانے کو ترجیح دے رہی ہے۔

دوسری جانب، میرٹ کی پامالی اور ایڈہاک پر بھرتیوں نے ریاست کے غریب اور محنت کش والدین کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ سیاستدانوں اور بااثر افراد کے قریبی لوگوں کو نوازنے کے کلچر نے ان نوجوانوں کو مایوس کیا ہے جو اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے خاندان کی محرومیوں کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حالیہ چند فیصلے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ اب عدالتیں حق تلفی پر انصاف فراہم کریں گی۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کے نئے صدر کا انتخاب: ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں سیاسی رسہ کشی شروع، اہم فیصلہ سامنے آگیا

Scroll to Top