حویلی (کشمیر ڈیجیٹل )آزاد کشمیر کے ضلع حویلی فار ورڈ کہوٹہ کے علاقے کیرنی میں قتل ہونے والے رفاقت گجر کے قتل کو دو ہفتے گزر جانے کے باوجود ملزمان کی گرفتاری میں پیشرفت نہ ہونے پر اہلِ علاقہ میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ مقتول کی قبر اور اہلِ خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں جبکہ کیس تاحال معمہ بنا ہوا ہے ۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تحقیقات جاری ہونے کا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے تاہم عملی طور پر کوئی نمایاں پیشرفت سامنے نہیں آئی ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے تحقیقات کے نام پر یقین دہانیاں دی جا رہی ہیں جبکہ قاتل اب بھی آزاد گھوم رہے ہیں ۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے مختلف تبصرے اور قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں، جس سے کیس مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہٹیاں بالا ، راشن کی تقسیم میں بد نظمی، جھگڑا اور پتھراؤ، 2پولیس اہلکار زخمی
شہریوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ باتوں کے بجائے عوام کو چاہیے کہ وہ براہِ راست قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں اور کیس کی پیشرفت کے بارے میں آگاہی حاصل کریں تاکہ اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہو ۔
رفاقت قتل کیس کے حوالے سے اہلِ علاقہ کی مختلف مقامات پر میٹنگز کا سلسلہ بھی جاری ہے، تاہم تاحال کوئی متفقہ اور مضبوط لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا ، جسے مقامی افراد ایک المیہ قرار دے رہے ہیں ۔
عوامی حلقوں میں یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ماضی میں ہونے والے بعض قتل کے واقعات کی طرح کہیں یہ معاملہ بھی وقت کے ساتھ دب نہ جائے ۔
اہلِ علاقہ نے حکومتِ آزاد کشمیر اور منتخب نمائندوں خصوصاً وزیرِ اعظم آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ رفاقت قتل کیس کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے اور مقتول کے خاندان کو جلد انصاف فراہم کیا جائے ۔




