ایران جنگ سرے سے ہونی ہی نہیں چاہیے تھی، چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا بڑا بیان

چین نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں اور حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ کے سخت موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتا اور اس جنگ کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا تھا کہ یہ جنگ سرے سے ہونی ہی نہیں چاہیے تھی، کیونکہ موجودہ صورتحال نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک میں طاقت کے زور پر حکومت کی تبدیلی (Regime Change) کے منصوبوں کو بین الاقوامی سطح پر کبھی قبولیت حاصل نہیں ہوتی اور ایسے اقدامات صرف مزید کشیدگی اور خونریزی کو جنم دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا مشرقِ وسطیٰ میں اپنا خصوصی نمائندہ بھیجنے کا اعلان

وانگ یی نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ایران اور تمام خلیجی ممالک کی سلامتی اور ان کی علاقائی خودمختاری کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی برادری کو ایسے کسی بھی قدم سے گریز کرنا چاہیے جو خطے کے حالات کو مزید بگاڑ سکتا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت سب سے اہم ضرورت صورتحال کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے عالمی قوتوں اور بڑے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کریں اور جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔

مزید پڑھیں: امریکا دلدل میں پھنس چکا،علی لاریجانی کا امریکی فوجیوں سے متعلق بڑا دعویٰ

Scroll to Top