مظفرآباد: عالمی یومِ خواتین پر ایل او سی کے دونوں اطراف کشمیری خواتین سراپا احتجاج

دنیا بھر میں آج 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، تاہم اس موقع پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف مقیم کشمیری خواتین نے جشن کے بجائے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی جہاں انہوں نے بھرپور ریلیاں نکالیں اور احتجاجی مظاہرے کیے۔

احتجاج میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ بھارت میں خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور بھارتی جیلوں میں ناحق قید کشمیری خواتین رہنماؤں کو فی الفور رہا کیا جائے۔ ان مظاہروں کے دوران خواتین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر خواتین کے حقوق کی پامالی کے خلاف اور انصاف کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں خواتین کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں اور ان کی عزتوں کی پامالی کا فوری نوٹس لیں۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کی شمولیت کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی: صدر اور وزیراعظم پاکستان

کشمیری خواتین کا موقف تھا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی پرامن جدوجہد کو ہر صورت جاری رکھیں گی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور کشمیری خواتین کو درپیش سنگین مسائل کے حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

مزید پڑھیں: کشمیری خواتین تاریخ کا روشن باب،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کئے جائیں، سمعیہ ساجد راجہ

Scroll to Top