“پڑوسی ممالک پر اب کوئی میزائل حملہ نہیں ہوگا”ایران کی معذرت اور پرامن یقین دہانی

تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے ممالک کے لیے ایک بڑا اور اہم امن پیغام جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اپنے کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف جارحیت یا میزائل حملے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں پڑوسی ممالک کی سلامتی کو اولیت حاصل ہے۔

صدر پزشکیان نے اپنے خصوصی بیان میں گزشتہ دنوں ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں پر پڑوسی ممالک سے معذرت خواہی کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کی عبوری لیڈر شپ کونسل نے پڑوسی ممالک کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا میزائل حملے کی منظوری نہیں دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی دوسرے ملک کی خود مختاری میں مداخلت یا حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، اور مستقبل میں ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی میزائلوں سے تل ابیب میں کتنا نقصان ہوا؟بھارتی صحافی نے حقائق بتا دیئے

ایرانی صدر نے دفاعی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران صرف اس صورت میں جوابی کارروائی کرے گا جب کسی پڑوسی ملک کی سرزمین کو ایران کے خلاف حملے کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ہرگز سرنڈر نہیں کرے گا اور دشمن کی یہ خواہش کہ ایرانی عوام ہتھیار ڈال دیں، کبھی پوری نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد، ایران نے جوابی کارروائی میں پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں کچھ شہری بھی زخمی ہوئے تھے، جس پر اب ایرانی صدر نے باضابطہ معذرت اور مستقبل کے لیے پرامن یقین دہانی کرائی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران پر حملہ، امریکا کو 100گھنٹوں میں کتنے ارب ڈالر کا نقصان ہوا؟امریکی ادارے کا بڑا انکشاف

Scroll to Top