مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں محکمہ صحت کے گریڈ 1 سے 21 تک کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا ۔
سنٹرل پریس کلب مظفرآباد کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے میں مرد ملازمین کے ساتھ ساتھ خواتین ملازمین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے جبکہ شرکاء حکومت کیخلاف نعرے بازی بھی کرتے رہے ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے ملازمین طویل عرصے سے مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر : مزدور طبقے نے حکومت سے فوری امداد کی اپیل کر دی
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے سروس اسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے، تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے اور دیگر انتظامی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ محکمہ صحت کے ملازمین بہتر انداز میں اپنی خدمات انجام دے سکیں ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے ملازمین دن رات عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور مشکل حالات میں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، اس کے باوجود ان کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جو قابل تشویش ہے ۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر تسلیم کیا جائے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ملازمین کے نمائندوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات جلد تسلیم نہ کیے تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: ڈڈیال کے ہیلتھ ورکرز کا حکومت کیخلاف احتجاج، سڑکوں پر نکل آئے
انہوں نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی کیا جا سکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا ۔




