ڈڈیال (کشمیر ڈیجیٹل )آزاد کشمیر کی تحصیل ڈڈیال کے ہیلتھ ورکرز نے حکومت کیخلاف احتجاج کو ہسپتالوں تک محدود رکھنے کے بعد اب سڑکوں پر بھی اُتار دیا ہے ۔
احتجاج کا سبب چارٹر آف ڈیمانڈ کی غیر منظور شدگی ہے، جس پر ہیلتھ ورکرز کا صبر لبریز ہو گیا ہے ۔ مقامی ذرائع کے مطابق تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اور گردونواح سے بڑی تعداد میں ہیلتھ ملازمین، جن میں خواتین کی بھی نمایاں تعداد شامل تھی، نے شیر عباس بھلوٹ چوک تک ریلی نکالی ۔
مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو فوری طور پر منظور کیا جائے تاکہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کے جائز حقوق کی فراہمی ممکن ہو سکے ۔
احتجاجی ریلی میں شامل ہیلتھ ورکرز نے کہا کہ وہ کئی ماہ سے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ رہے ہیں لیکن تاحال کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پنشن اصلاحات کے خلاف آزاد کشمیر میں شدید احتجاج، لیڈیز ہیلتھ ورکرز کا آزادی چوک تک مارچ
مقامی ہسپتال ذرائع کے مطابق، احتجاج کے دوران روڈز پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو آمدورفت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہیلتھ ورکرز نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کرے، جس میں تنخواہوں، سہولتوں، اور دیگر ملازمت سے متعلق مسائل شامل ہیں ۔
عوامی ردعمل کے مطابق، شہری ہیلتھ ورکرز کے احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ یہ براہِ راست صحت کے شعبے کی بہتری اور عوامی خدمات کے معیار سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
احتجاج میں خواتین ہیلتھ ورکرز کی بڑھ چڑھ کر شرکت اس بات کی دلیل ہے کہ اس تحریک میں ہر سطح کے ملازمین یکساں طور پر شامل ہیں اور وہ اپنے حقوق کیلئے پُرعزم ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دنیابھر میں 80 کروڑ افراد امراض گردہ میں مبتلا، ہیلتھ ورکرزکو کردار ادا کرناہوگا،ڈی ایچ او بھمبر
ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا تو احتجاج مزید وسیع سطح پر جاری رہے گا، اور یہ تحریک ممکنہ طور پر دیگر تحصیلوں تک بھی پھیل سکتی ہے ۔




