کمانڈر ان چیف کی طاقت یا مقننہ پر غلبہ؟ ایران اور وینزویلا سے لے کر مقامی محاذ تک، ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کی کہانی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے آغاز نے ایک بار پھر امریکی صدور اور کانگریس کے درمیان اس طویل اور تلخ کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے کہ غیر ملکی فوجی کارروائی کا اصل اختیار کس کے پاس ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ’بڑی جنگ‘ کے اعلان پر مبنی اپنے ویڈیو خطاب میں ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ سے کسی قسم کی اجازت یا مشاورت کا ایک بار بھی ذکر نہیں کیا۔ ایسا کر کے انہوں نے نہ صرف ڈیموکریٹس کو نظر انداز کیا بلکہ اپنی ریپبلکن پارٹی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تاکہ ایک دبے ہوئے مقننہ پر اپنا غلبہ ثابت کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا نظامِ رہبری کیا ہے؟ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعدنیارہبرِ اعلیٰ کیسے منتخب ہوگا؟

ایک امریکی اہلکار کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں، جنہیں ’گینگ آف ایٹ‘ کہا جاتا ہے، کو ایران پر حملے کی پیشگی اطلاع دینے کے لیے کال کی تھی، تاہم ایک رہنما سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ اگرچہ روبیو نے منگل کے روز ایک گھنٹہ طویل بریفنگ میں ان رہنماؤں کو صورتحال سے آگاہ کیا تھا، لیکن ٹرمپ کا انداز مکمل طور پر یکطرفہ رہا۔ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، لیکن صدر کو ’کمانڈر ان چیف‘ قرار دیے جانے کی تعریف کو حالیہ برسوں میں امریکی رہنماؤں نے بہت وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے۔ 1973 میں ’وار پاورز ریزولوشن‘ کے تحت صدر کو ہنگامی صورتحال میں محدود فوجی مداخلت کی اجازت ہے، جس کا جواز پیش کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’فوری خطرے‘ کا حوالہ دیا۔

قانون کے مطابق صدر کو 48 گھنٹوں میں کانگریس کو مطلع کرنا ہوتا ہے اور 60 دنوں سے زیادہ افواج کی تعیناتی کے لیے باقاعدہ اجازت درکار ہوتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے صدر نہیں جنہوں نے کانگریس کو بائی پاس کیا، اس سے قبل بل کلنٹن نے 1999 میں کوسوو، بارک اوباما نے 2011 میں لیبیا اور خود ٹرمپ نے 2018 میں شام پر حملوں کے لیے یہی طریقہ اپنایا تھا۔ تاہم اب 79 سالہ ٹرمپ صدارتی اختیارات کو آخری حدوں تک دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس سے مشورہ کیے بغیر لاطینی امریکہ میں کشتیوں پر حملوں اور جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا حکم دیا۔ ان کا سب سے متنازع اقدام تین جنوری کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑنے کا حکم تھا، جبکہ مقامی محاذ پر نیشنل گارڈ کی تعیناتی پر بھی انہیں کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: مجھے علم ہے خامنہ ای کے بعد ایران میں کس کا حکم چل رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

Scroll to Top