شعیب ملک

میری شادی سے متعلق زیرِ گردش خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں ، شعیب ملک

سابق قومی کرکٹر و کپتان شعیب ملک نے سوشل میڈیا پر اپنی شادی سے متعلق زیرِ گردش خبروں پر خاموشی توڑ دی ہے ۔

شعیب ملک نے 2023 کے اختتام پر پہلی اہلیہ ثانیہ مرزا سے علیحدگی کے بعد اداکارہ ثنا جاوید سے دوسری شادی کا اعلان کیا تھا ۔ اس اعلان کے بعد سے وہ سوشل میڈیا پر تنقید اور ٹرولنگ کا سامنا کر رہے ہیں ۔

سابق کپتان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی شادی سے متعلق کیے جانے والے دعو ؤں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔

انہوں نے وضاحت کی کہ 2023 کے اوائل میں انکی پہلی شادی باہمی رضامندی سے اختتام پذیر ہوئی ۔ دونوں نے بطور والدین اپنے بچے کی مشترکہ ذمہ داری نبھانے کا فیصلہ کیا ۔اسکے بعد انہوں نے دوسری شادی کی ۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی نجی زندگی کو خاندان کے احترام میں ذاتی رکھنا چاہتے تھے تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی خاموشی کو کمزوری سمجھا گیا ۔

ان کے مطابق دوسری شادی کے بعد کچھ حلقوں کی جانب سے دانستہ طور پر ان کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی اور ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بے بنیاد کہانیاں ان کی اجازت کے بغیر پھیلائی گئیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شعیب ملک اور ونیزا ستار کی 27 فروری کو شادی کی افواہیں: ثنا جاوید سے علیحدگی کی خبروں میں کتنی حقیقت ہے؟

شعیب کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کو بھی ان معاملات میں ناحق تنقید اور منفی تبصروں کا سامنا کرنا پڑ احالانکہ وہ ان الزامات سے کسی طور منسلک نہیں تھیں، جو ان کیلئے ناقابل قبول ہے ۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غیر مصدقہ افواہوں کا پھیلاؤ نہ صرف انہیں ذاتی طور پر متاثر کرتا ہے بلکہ ان کے خاندان، خصوصاً بیٹے اذان مرزا ملک کے لیے بھی ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا اب اس عمر میں ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جھوٹی کہانیاں پڑھ سکتا ہے جو محض سنسنی اور مالی فائدے کے لیے گھڑی جاتی ہیں ۔

سابق آل راؤنڈر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کی یا کسی بھی فرد کی نجی زندگی کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے سے گریز کریں ۔

انہوں نے کہا کہ بطور عوامی شخصیت وہ تنقید اور جانچ پڑتال کو سمجھتے ہیں تاہم ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور کسی کی پرائیویسی یا ساکھ کو نقصان پہنچانا اس حد سے تجاوز ہے ۔

آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ ان کی ذاتی زندگی سے متعلق جھوٹا یا ہتک آمیز مواد پھیلایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

Scroll to Top