ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ہوگئے ہیں ۔
ایرانی ذرائع کے مطابق حملے حساس مقامات کو نشانہ بنا کر کیے گئے تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں ۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان بارے تاحال کوئی واضح اطلاع سامنے نہیں آئی اور ان کی موجودگی کے بارے میں سرکاری سطح پر خاموشی اختیار کی گئی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای حملے میں شہید ہو گئے، ٹرمپ کا دعویٰ
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے عارضی طور پر صدارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کا اعلان کیا ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں آیت اللہ خامنہ ای شہید ہو چکے ہیں اور ان کے ساتھ دیگر ایرانی رہنما بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی جارحیت کیخلاف بولنے پر پاکستان،چین ،روس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ایرانی مندوب
ایرانی حکام نے ٹرمپ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سپریم لیڈر سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔




