اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے زور دیا کہ ایران میں فوری جنگ بندی ضروری ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام قائم رہ سکے ۔
عاصم افتخار نے کہا کہ حالیہ فوجی حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایران کے حوالے سے سفارتی کوششیں جاری تھیں اور اس سے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی متاثر ہوتی ہے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ فوجی کارروائیاں مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچاتی ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھاتی ہیں، جس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں ۔
پاکستانی مندوب نے ایران کے طالب علموں اور شہریوں کی شہادت پر گہرا افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوری جنگ بندی ناگزیر ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے حمایت جاری رکھے گا،عاصم افتخار
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں استحکام صرف تب ممکن ہے جب تمام فریقین تشدد کی بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں ۔
عاصم افتخار نے ایران کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی حالیہ حملوں کی مذمت کی، جن میں قطر، سعودی عرب، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں ۔
انہوں نے عمان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو سراہا اورکہا کہ ثالثی اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کو حل کرنا خطے کے امن کیلئے ناگزیر ہے۔
پاکستان نے اپنے موقف میں یہ واضح کیا کہ خطے میں تشدد کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دی جاتی ہے اور انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای حملے میں شہید ہو گئے، ٹرمپ کا دعویٰ
عاصم افتخار نے مزیدکہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھی اس معاملے میں کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں کشیدگی کم ہو اور پائیدار امن قائم ہو سکے۔




