امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک حملے میں شہید ہو گئے ہیں ۔
صدر ٹرمپ نے خامنہ ای کو عالمی سطح پر سب سے خطرناک اور بدنام افراد میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی موت نہ صرف ایرانی عوام کیلئےانصاف ہے بلکہ ان تمام عالمی شہریوں کیلئے بھی ہے جو ان اور ان کے حامیوں کے ہاتھوں ہلاک یا زخمی ہوئے ۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جدید انٹیلی جنس اور ٹریکنگ سسٹمز کے باوجود خامنہ ای بچ نہ سکے اور حتیٰ کہ اسرائیلی تعاون کے باوجود ایران کے دیگر اعلیٰ حکومتی رہنما بھی کچھ کرنے میں ناکام رہے ۔ ان کے مطابق یہ واقعہ ایرانی عوام کیلئے اپنے ملک پر کنٹرول واپس حاصل کرنے کا ایک تاریخی موقع ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان افغانستان کےساتھ بہت اچھا کررہاہے ،مداخلت نہیں کرونگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی)، فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز اب لڑائی میں دلچسپی نہیں رکھتیں اور امریکی افواج سے تحفظ یا معافی کی درخواست کر رہی ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اب انہیں وقتی تحفظ حاصل ہو سکتا ہے لیکن بعد میں وہ موت کے خطرے سے دوچار ہوں گے ۔
صدر ٹرمپ نے اُمید ظاہر کی کہ ایرانی فورسز پرامن طریقے سے وطن پرست عوام کے ساتھ شامل ہو جائیں گی اور ملک کو دوبارہ عظمت کی راہ پر لے جانے کیلئے متحد ہو کر کام کریں گی ۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایک دن میں خامنہ ای کی موت کیساتھ ہی ملک میں تباہی کی بڑی لہر آئی اور امریکی بمباری جاری ہے ۔ ان کے مطابق یہ بمباری ضرورت کے مطابق جاری رہے گی تاکہ مشرق وسطیٰ اور دنیا میں امن قائم کیا جا سکے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کیلئے بہت برا دن ہوگا، ٹرمپ کی پھر دھمکی، سرینڈر کا مطلب نہیں جانتے، تہران
ان بیانات کے بعد عالمی سطح پر سنجیدہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ اس واقعے سے خطے میں سیاسی عدم استحکام اور فوجی کشیدگی بڑھ سکتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی تصدیق کیلئے معتبر بین الاقوامی ذرائع یا سرکاری بیان کی ضرورت ہے کیونکہ فی الحال یہ دعویٰ تنہا امریکی صدر کے بیان تک محدود ہے ۔




