حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے غیر مصدقہ اور گمراہ کن خبروں کے پھیلاؤ پر عالمی سطح اور میڈیا مبصرین کی جانب سے سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چند بھارتی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بغیر کسی تصدیق کے ایسی خبریں نشر کی جا رہی ہیں جن کا مقصد سنسنی خیزی پیدا کرنا ہے، جس سے نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
میڈیا تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ بھارتی میڈیا کی حالیہ رپورٹس میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے، جہاں پرانی ویڈیوز اور تصاویر کو حالیہ واقعات سے جوڑ کر پیش کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی، جس نے معلوماتی انتشار کو جنم دیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی متعدد ایسے بھارتی دعوؤں کو بے نقاب کیا جن کی حقیقت بعد ازاں بالکل مختلف ثابت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بی بی سی نے افغان طالبان کا دعویٰ غلط ثابت کر دیا، پرانی تصاویر کو حالیہ کشیدگی سے جوڑنے کی کوشش ناکام
ماہرینِ ابلاغیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی حساس صورتحال میں ذمہ دارانہ صحافت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کی ترسیل نہ صرف میڈیا کے وقار کو مجروح کرتی ہے بلکہ سفارتی تعلقات اور خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ علاقائی امور کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ میڈیا اداروں کو خبر نشر کرنے سے قبل تصدیق کے تمام عالمی تقاضے پورے کرنے چاہئیں اور سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو ترجیح دینی چاہیے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی فیک نیوز کے تدارک کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روک کر عوام تک صرف درست اور مستند خبروں کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ پاک افغان کشیدگی کے دوران افغان طالبان رجیم سے منسلک مختلف سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے مسلسل فیک نیوز پھیلانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کی مؤثر اور بھرپور کارروائیوں کے بعد زمینی صورتحال میں واضح دباؤ کا سامنا کرنے والی افغان طالبان رجیم نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن مہم تیز کر دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی تائید نہ کر سکے تو جھوٹے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے جعلی اطلاعات، من گھڑت دعوے اور غیر مصدقہ ویڈیوز کا سہارا لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ، تہران سمیت کئی شہروں پر میزائلوں کی بارش، ایران کا جوابی وار
حیران کن طور پر یہ مہم صرف غیر سرکاری اکاؤنٹس تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض سرکاری ہینڈلز اور ترجمان بھی اس پراپیگنڈا مہم کا حصہ بنتے دکھائی دیے ہیں۔ تازہ دعوؤں میں مضحکہ خیز طور پر یہ کہا گیا کہ دو پاکستانی لڑاکا طیارے مار گرائے گئے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے دعوے نہ صرف حقیقت سے بعید ہیں بلکہ عالمی سطح پر ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
اسی تسلسل میں ایک اہم پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران افغان حکومت کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا ایک متنازع اور غیر مصدقہ دعویٰ بعد ازاں خاموشی سے حذف کر دیا گیا۔ شدید تنقید اور حقائق سامنے آنے کے بعد سرکاری اکاؤنٹ نے اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مہم محض عوامی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے چلائی جا رہی تھی۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق کسی بھی کشیدگی کا مستقل حل صرف ذمہ دارانہ طرز عمل، شدت پسند عناصر سے لاتعلقی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ ماہرین نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ایسی غیر مصدقہ خبروں سے محتاط رہیں کیونکہ فیک نیوز وقتی طور پر بیانیہ بنانے میں مدد دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں سچائی ہی غالب آتی ہے۔




