بی بی سی نے افغان طالبان کا دعویٰ غلط ثابت کر دیا، پرانی تصاویر کو حالیہ کشیدگی سے جوڑنے کی کوشش ناکام

اسلام آباد: آپریشن غضب لِلحق کے دوران جنگی محاذ پر ناکامی کے بعد افغان طالبان کو سوشل میڈیا پر بھی شدید رسوائی کا سامنا ہے۔ پاک فوج کے مؤثر جواب اور بلااشتعال جارحیت کے خلاف کارروائی کے بعد، افغان طالبان رجیم نے اپنی ہزیمت چھپانے کے لیے جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے جسے برطانوی نشریاتی ادارے “بی بی سی” نے بے نقاب کر دیا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ:

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق، سوشل میڈیا کی مختلف پوسٹس میں پاکستان کے ایک تربیتی لڑاکا طیارے کے ملبے کو دکھا کر گمراہ کن دعوے کیے جا رہے ہیں۔ عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ان تصاویر کا حالیہ پاک افغان کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ تصاویر درحقیقت سال 2025 کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں ملٹری ٹھکانوں پر کارروائی ‘انتہائی درستگی’ کے ساتھ کی گئی ،شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بی بی سی

ماہرین کی رائے اور حقائق:

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے ہاتھوں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد افغان طالبان بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور سوشل میڈیا پر من گھڑت مواد کے ذریعے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر دکھایا جانے والا ملبہ ایک پرانے تربیتی طیارے کا ہے، جس کا موجودہ تنازع سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

Scroll to Top