تہران/یروشلم: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں اور ہفتے کی صبح اسرائیل نے ایران پر براہِ راست میزائل حملوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی دارالحکومت تہران اس وقت شدید دھماکوں سے لرز اٹھا ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق ابتدائی نشانہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کے قریبی علاقے کو بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا نے شہر کے مختلف حصوں میں دھوئیں کے بادل اٹھنے کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد پورے خطے میں صورتحال انتہائی تشویشناک اور کشیدہ رخ اختیار کر چکی ہے۔
تہران اور دیگر شہروں کی صورتحال:
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق دارالحکومت تہران میں ‘یونیورسٹی اسٹریٹ’ کے علاقے کو متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے جہاں سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تہران کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی دھوئیں کے بادل دیکھے گئے ہیں اور ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ایمرجنسی سروسز کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ ابھی تک جانی یا مالی نقصان کی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا تہران پر میزائل حملہ: آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب دھماکے، ایران میں ہنگامی صورتحال
اسرائیل میں ہائی الرٹ اور پابندیاں:
اسرائیلی اخبار ‘یروشلم پوسٹ’ کے مطابق حکومت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ اسرائیل بھر میں دفاتر اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ عوامی اجتماعات پر بھی پابندی عائد ہے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشے کے پیشِ نظر ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور پناہ گاہوں (Shelters) کو فعال کر دیا گیا ہے۔
سرکاری موقف اور عالمی تشویش:
اسرائیلی وزیر دفاع نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے لیے ضروری اقدام قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں تاہم باضابطہ تفصیلی ردعمل کا انتظار ہے۔ عالمی برادری نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ ایران کی جانب سے کسی بھی بھرپور جوابی کارروائی کی صورت میں خطے میں وسیع پیمانے پر تصادم کا خطرہ موجود ہے۔




